نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کوسعودی ہم منصب کاٹیلی فون
  • بریکنگ :- دوطرفہ تعلقات،مختلف شعبوں میں تعاون،باہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کےدورہ سعودی عرب کےاثرات پربھی تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- دونوں وزرائےخارجہ کاقیادت کےمشترکہ فیصلوں پرعملدرآمدیقینی بنانےپراتفاق
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی نےسعودی سالمیت سےمتعلق پاکستان کی حمایت کایقین دلایا
Coronavirus Updates
"SUC" (space) message & send to 7575

قابوں سے بھری عید

تمام تر قیامت خیز دنوں اور ہلاکت خیز خبروں کے باوجود زندگی آگے سفر کرتی رہتی ہے اور ہمارے لیے زندگی کی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت عید بھی ہے۔ اس سال رمضان جس طرح گزرا وہ بہت مختلف تھا۔ کتنے ہی لوگ اس عید پر ہمارے درمیان نہیں رہے‘ جن کی یاد تڑپاتی رہے گی‘ لیکن یہ زندگی ہے جو چلتی رہتی ہے۔ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو پاکستان سمیت کچھ ملکوں میں عید منائی جا رہی ہو گی۔
دنیا بھرکی قوموں میں خوشیاں اور تہوار کھانے پینے سے جڑے ہوئے ہیں۔ غذا کے ساتھ انسان کی خوشی ازل سے جڑی ہوئی ہے اور عیدالفطر کے تو لفظی معنی بھی روزہ کھولنے اور روزہ ختم کرنے کی خوشی کے ہیں۔ عید پر بھی انواع و اقسام کے کھانے اور مشروبات اپنی پوری دلکشی کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ گھر، خاندان، عزیز، اقارب، دوست، میل جول، ملاقاتیں، تہنیت سب اسی مرکز کے گرد گھومتے ہیں‘ تو عید کے دن مزے دار کھانوں اور مشروبات سے کیسے بے نیاز رہ سکتے ہیں۔ ہر ملک میں عید کا انتظار لگتا ہے اور اس کی رونق، گہما گہمی، تیاری اور انتظام قابلِ دید ہوتا ہے۔ مشرقی کونے سے مغربی کنارے تک عیدالفطر کا استقبال ایک ہی جیسا ہے، چاہے اسے کسی نام سے بھی پکار لیا جائے۔ انڈونیشیا میں ''لیبراں‘‘ (Lebaran) ترکی میں ''سیکر بیرامی‘‘ (Seker Bayrami) پاکستان‘ ہندوستان میں میٹھی عید کہلانے والی عید معانقوں‘ ملاقاتوں‘ قہقہوں اور خاطر مدارات کا نام ہے؛ اگرچہ اس برس معانقے، ملاقاتیں اور ملنا جلنا خواب کی طرح ہو کر رہ گیا ہے۔
عید کے کھانوں کی کیا بات ہے۔ چاندی کے ورق میں لپٹی سویّاں پاکستان‘ ہندوستان کی عام سوغات ہے۔ ہمارے گھرانے میں سویّاں نہیں ''شیر خرما‘‘ بنتا ہے جس میں پستہ، چھوارے اور میوے شامل ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پر سال بھر میں صرف عید کے روز تیار ہوتا ہے۔ اس کا انتظار لگتا ہے اوریہ مخصوص گھرانوں کی مخصوص روایت ہے۔ میرے خاندان کی بزرگ خواتین کے مطابق اعلیٰ معیار کا شیر خرما بنانا بذات خود ایک فن ہے۔ پاک و ہند میں اور پکوانوں کے ساتھ عید کے دن مٹھائی اور کیک کے تحفے بھی عام ہیں۔
لیکن یہ تو ہمارا پاک و ہند کا علاقہ ہوا۔ یہ جو شرق سے غرب تک مسلم ممالک پھیلے ہوئے ہیں انہیں بھی تو ایک نظر دیکھیے۔ عید کا دن طلوع ہوتا ہے اور مشرق سے مغرب تک ہر مسلم ملک کے سروں پر خوشیاں بکھیرتا، تیاریاں دیکھتا‘ ہنستا مسکراتا گزر جاتا ہے۔ طرح طرح کے کھانوں سے اس کا خیر مقدم ہو رہا ہے۔ یہ برونائی ہے۔ ایک خاتون چاولوں کے پکوڑے تیار کر رہی ہیں جسے ''کیٹوپٹ‘‘ (ketupat) کہا جاتا ہے۔ یہ جکارتہ انڈونیشیا ہے ایک صاحب ''ڈوڈول‘‘ (dodol) نامی مٹھائی بنا رہے ہیں۔ یہ کوالالمپور، ملائیشیا ہے۔ دو تین عورتیں مل کر بانس میں تیار کی ہوئی چاولوں کی ڈش تیار کر رہی ہیں جسے ''لیمانگ‘‘ (lemang)کہا جاتا ہے۔ مشرق بعید کے ممالک میں گوشت کے سالن بھی بہت مرغوب ہیں۔ ایک بیکری پر ''کیو لیپس لیگٹ‘‘ (Kue Lapis Legit) یعنی ایک ہزار پرتوں والا کیک تیار کیا جا رہا ہے‘ جس میں مکھن، آٹا اور مسالے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
یہ برما (میانمار)ہے۔ گھروں میں بریانی تیار کی جا رہی ہے جس میں بادام اور دیگر مغزیات وافر شامل ہیں۔ سوجی سے قسم قسم کی مٹھائیاں بنائی جا رہی ہیں۔ یہ ایران ہے۔ چیلو کباب کے بغیر کوئی ایرانی دستر خوان مکمل نہیں جو دنبے کے گوشت کے کباب، چاول، ابلے ٹماٹر اور چٹنی کیساتھ ایک لذیذ کھانا ہے۔ اسی طرح زرشک پلاؤ بھی تہواروں کا حصہ اور ایرانیوں کی مرغوب غذا ہے۔ یہ افغانستان ہے۔ نسلوں سے ایک کے بعد ایک جنگ میں مبتلا۔ اسی میں عید کا تہوار دستر خوان سجا دیتا ہے۔ بھنے ہوئے برّہ میں دم پخت چاول بھرے گئے ہیں۔ کابلی پلاؤ دم دیا جا رہا ہے جس میں کشمش اور اخروٹ کا مغز بھی شامل ہے۔ ''تخم جنگی‘‘ کے نام کی روایتی اور دوستانہ روایتی جنگ بھی چل رہی ہے جس میں ابلے ہوئے انڈے بطور ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ کراچی ہے۔ کباب اور یخنی والا پلاؤ‘ تیار کیے جا رہے ہیں۔ ''لبِ شیریں‘‘ کے لطیف نام کا لطیف میٹھا مہمانوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ لاہور ہے ''قتلمہ‘‘ بنانے والوں کی دکانیں سجی ہوئی ہیں اور ان پر بھیڑ ہے۔ یہ دہلی ہے۔ حلیم‘ نہاری اور شیرمال کھانے کی میزوں پر سجے ہیں۔ لذیذ میٹھے ''ربڑی‘‘ کے تھال سجے ہوئے ہیں۔ یہ ترکی ہے۔ بچے اپنے ہمسایوں اور دوستوں کے گھر ملنے جا رہے ہیں اور ان کی ''راحت الحلقوم‘‘ یعنی ٹرکش ڈیلائٹ اور ''بکلاوا‘‘ نامی تیز میٹھی ترکی مٹھائی سے تواضع ہو رہی ہے۔ یہ عراق ہے، آگ اور خون میں نہایا ہوا‘ لیکن عید کا استقبال ''کلائچہ‘‘ بنا کر کیا جا رہا ہے۔ ''کلائچہ‘‘ عراق کی تہواروں پر تیار کی جانے والی ایک خاص قسم کی خطائی ہے جس میں کھجور اور بادام‘ اخروٹ وغیرہ بھرے جاتے ہیں اور جس میں گلاب کے پھول کی مہک ہوتی ہے۔ یہ بشارالاسد کے ہاتھوں تباہ شدہ شام ہے‘ لیکن عید یہاں بھی تباہ حال لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آتی ہے۔ ''قبہ‘‘ نامی مقبول عام ڈش بنائی جارہی ہے جو حمس اور شامی سلاد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ ''قبہ‘‘ گندم، قیمہ کی ہوئی پیاز، بچھڑے یا بکرے کے گوشت اور کالی مرچ سمیت دیگر مسالوں کو یک جان کر کے کوفتوں کی شکل کا پکوان ہے۔ یہ سعودی عرب ہے۔ لوگ اپنے گھروں کے باہر قالین بچھا کر بیٹھے ہیں۔ ''المفطح‘‘ کی تیاری ہے جو گوشت، چاول، دار چینی‘ کالی مرچ‘ زعفران اور لہسن کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ ابلی ہوئی میکرونی کا اضافہ کر کے اسے ابلے ہوئے انڈے سے سجا کر پڑوسیوں کے یہاں بھیجا جا رہا ہے۔ یہ یمن ہے ''الحنیذیہ‘‘ نامی پکوان بنا کر چاول اور لال مکئی کی روٹی سے کھایا جا رہا ہے۔ یہ مصر ہے، یہاں چار دن تک عیدالفطر منائی جاتی ہے۔ کھانے میں مرکزی کردار نہایت لذیذ ''سمک مشوی‘‘ مچھلی کا ہے۔ مصری عورتیں ''فتّہ‘‘ تیار کر رہی ہیں جو گوشت، پیاز، سرکہ کو بہم ملا کر پکایا جانے والا سوپ ہے اور چاولوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ جگہ ''کاہک‘‘ جو مقامی انداز کا لذیذ بسکٹ ہے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ صومالیہ ہے۔ مقامی مٹھائی ''حالوو‘‘ کے طشت بھرے ہوئے ہیں‘ جو چینی، گھی، مکئی کے آٹے اور مسالوں سے بنائی گئی ہے۔ یو کے سمیت یورپ کے تمام ممالک میں پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی، عرب اور گورے مسلمان اپنے اپنے علاقوں کی سوغاتیں نئی زمینوں میں متعارف کروا رہے ہیں۔ یہ امریکہ ہے۔ مہاجر قومیتوں کے ساتھ ساتھ حبشی نسل کے مسلمان بھی عید کی خوشی منا رہے ہیں۔ ''بیف سٹیک‘‘ ان کی خوشیوں کی ایک علامت ہے۔
ذرا ٹھہریے۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی اصل بات تو اب شروع ہوئی ہے۔ یہ امّتِ مسلمہ ہے۔ لباس، زبان، رنگ، خدوخال، عادات‘ خصائل، قدوقامت، موسم اور خوراک کے مشرق سے مغرب تک پھیلے تنوّع کے ساتھ۔ اپنے اپنے خیالات کے ساتھ۔ اتنے بے شمار فرق اور علیحدہ علیحدہ مزاج کے ساتھ۔ زمین آسمان جیسی مخالف سمتوں کے ساتھ۔ لیکن اس کے باوجود عید کے استقبال کے لیے سب یک جان۔ سب یک آواز۔
کیا ہم نظریات، مسالک، نقطہ ہائے نظر کے اسی فرق کے ساتھ یک جان نہیں ہو سکتے؟ کچھ دیر کے لیے ہی سہی، ایک دوسرے کا لباس پہن کر نہیں دیکھ سکتے؟ اتنی متنوّع اور مختلف چیزوں کو ملا کر ایک اعلیٰ کھانا بنایا جا سکتا ہے تو ایک امت کیوں نہیں بن سکتی؟ جو اجنبی مگر مزے دار ڈش آپ نے بنائی ہے وہ میں چکھنا چاہتا ہوں اور یہ میرا بنایا ہوا شیر خرما آپ چکھیے! بتائیے کیسا ہے؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں