نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کےمعاملےپرکرس گیل کاٹویٹ
  • بریکنگ :- میں پاکستان جارہا ہوں ،کون چلےگامیرے ساتھ،کرس گیل
  • بریکنگ :- کرس گیل کابیان ٹویٹر کےٹاپ ٹرینڈمیں شامل
Coronavirus Updates
"SSC" (space) message & send to 7575

زیڈ اے بخا ری کی سرگز شت… (2)

دہلی میں ریڈیو سٹیشن کا آغاز ہو گیا تھا۔ریڈیو میں کام کرنے والی ٹیم کا سربراہ برطانیہ سے آیا ہوا براڈ کاسٹنگ کا ماہر فیلڈن تھا۔ یاد رہے یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان پر برطانیہ کا قبضہ تھااور ہندوستان میں ریڈیو کا ایک مقصد تاجِ برطانیہ کے سیاسی مفادات کی نگہبانی بھی تھا۔دہلی ریڈیو مقامی زبانوں میں موسیقی کے پروگرام‘ ڈرامے اور تقریریں اہتمام سے نشر کر تا تھا۔ریڈیو کی عمومی پالیسی پر البتہ برطانیہ کا پر تو نظر آتا تھا۔ یہ1936ء کی بات ہے ‘ اس سال برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم کا انتقال ہو گیا تھا اور برطانیہ میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ انگریزوں کو یہ توقع تھی کہ سوگ کا یہ عالم ہندوستان میں بھی نظر آئے‘ انہیں یہ خبر نہیں تھی کہ یہاں کے لوگوں کا جارج پنجم سے کوئی جذباتی تعلق نہیں ‘ لیکن چونکہ دہلی ریڈیو پر براہِ راست برطانیہ اور بی بی سی کے اثرات تھے۔ اس لیے دہلی ریڈیو کو حکم دیا گیا کہ تمام پروگرامز بند کر کے صرف خبریں سنائیں یا پھر مغربی کلاسیکی موسیقی کے ریکارڈ بجائے جائیں۔ خبریں سناتے وقت بھی آواز میں خوش دلی نہ آنے پائے اور لہجہ ایسا اختیار کیا جائے جیسے کوئی اپنا مر گیا ہو۔ ایک کارندے کو اس کام پر مقر ر کیا گیا کہ وہ سارا دن مغربی موسیقی کی اُداس دھنیں نشر کرتا رہے۔آغا اشرف کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ خبریں پڑھتے رہیں۔ سٹوڈیو میں اناؤنسر کے سامنے ایک بٹن لگا ہوتا ہے‘ اسے دائیں طرف گھمانے سے اناؤنسر کی آواز آتی تھی اور بائیں طرف گھمانے سے موسیقی کے سٹوڈیو کا پروگرام سنائی دیتا تھا۔آغاز اشرف خبریں پڑھ رہے تھے اور بادشاہ سلامت کی بیماری اور انتقال کے بارے میں بتا رہے تھے۔آغاز اشرف اپنے لہجے میں تمام تر سنجیدگی اور اُداسی سمو کر بول رہے تھے ''حضور ملکِ معظم نے انتقال سے تقریباً پانچ منٹ پہلے فرمایا...‘‘ اسی اثنا میں آغا اشرف کو کھانسی آگئی تو انہوں نے سامنے لگے بٹن کو بائیں طرف گھمایا جس کا تعلق موسیقی کے سٹوڈیو سے تھا جہاں سے طبلہ نواز ملنگ خان کی آواز آرہی تھی ''یہ میری ہتھوڑی کون حرام زادہ لے گیا ہے؟‘‘اب مکمل فقرہ یوں بنا تھا۔''حضور ِ ملکِ معظم نے انتقال سے تقریباً پانچ منٹ پہلے فرمایایہ میری ہتھوڑی کون حرام زادہ لے گیا ہے؟‘‘اس واقعے پر باقاعدہ جواب طلبی ہوئی لیکن لارڈ ولنگڈن نے اپنی کوششوں سے معاملے کو رفع دفع کرایا۔
سرگزشت میں جہاں اس عہد کی سیاسی اور معاشرتی جھلکیاں ملتی ہیں‘ زیڈ اے بخا ری کے ذاتی تجربات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ان میں سے کچھ واقعات تو عقل کو حیران کر دیتے ہیں۔اسی طرح کا ایک واقعہ آپ بھی سنیے۔زیڈ اے بخاری لکھتے ہیں کہ ایک بار وہ پشاور سے لاہور گئے۔ اس وقت ان کی عمر گیارہ بارہ برس تھی۔ وہاں کے تمام تاریخی مقامات کی سیر کی۔ کئی دن وہاں رہنے کے بعد دیکھا تو واپس پشاورجانے کیلئے کرائے میں تین روپے کم تھے۔جن کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے ان سے پیسے مانگنا معیوب سا لگتا تھا‘آخر ان کے ذہن میں ایک ترکیب آئی کہ میزبان کی لائبریری سے کوئی کتاب پڑھنے کے بہانے باہر لے جاؤں اور اسے بیچ کر کرائے میں تین روپے کی کمی پوری کر لوںاور اگر میزبان اس بارے میں پوچھے تو انہیں بتادیا جائے کہ کتاب کہیں کھو گئی ہے۔زیڈ اے بخاری کے بقول انہوں نے لائبریری سے ایک درمیانے حجم کی کتاب نکالی اور جلدی سے گھر سے باہر نکل گئے۔جب وہ لاہوری دروازے کے پاس پہنچے تو سوچا باغ میں بیٹھ کر کتاب دیکھ لی جائے تاکہ دام لگانے میں آسانی ہو۔کتاب کھول کر اس کا نام دیکھا تو وہ حضرت علی ہجویری ؒکی تصنیف ''کشف المحجوب ‘‘ تھی۔ زیڈ اے بخاری لکھتے ہیں کتاب دیکھ کر''میرے آنسو نکل آئے جی بھر کے رویااور روتا ہوا داتا دربار میں پہنچا فاتحہ پڑھی‘ دعا مانگی اور ایک کونے میں سر گھٹنوں میں ڈال کر بیٹھ گیا۔جانے کتنی دیر بیٹھا رہا اور کیا کیا سوچتا رہا۔آخر اٹھا ٹکسالی دروازے کی طرف باغ کے بیچ میں بغیر کسی ارادے کے چلنا شروع کر دیا۔چلتے چلتے تھک گیا تو ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔مجھ پر ایک ہیبت طاری تھی۔بہت دیر تک مبہوت بیٹھا رہا۔آخر اٹھا۔ایک ہاتھ سے کتاب کو گلے سے لگایااو ر دوسرا ہاتھ بینچ پر ٹیک لگا کر اٹھنے لگا۔جب بینچ پر ہاتھ پڑا تو کوئی شے چبھنے لگی۔دیکھا تو تین روپے پڑے ہیں۔سچی بات ہے کہ اس پر اسرارِ دنیا کی اپنی منطق ہے جس کے راز ہماری عقل سے ماورا ہیں۔ زیڈ اے بخاری جو ایک روشن خیال اور مغربی تہذیب سے قریب تر تھے‘ ایک اور دلچسپ واقعہ سناتے ہیں کہ دہلی ریڈیو کے عملے میں ان کا ایک ساتھی نیازی تھاجسے علمِ نجوم سے دلچسپی تھی جبکہ بخاری ایسی چیزوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ایک روز نیازی نے انہیں کہا: کارونیشن ہوٹل میں ایک نجومی آیا ہے تم اس سے مل کر علمِ نجوم کے قائل ہو جاؤ گے۔ بخاری کی پُر تجسس طبیعت انہیں اگلے روز ہی کارونیشن ہوٹل لے گئی۔نجومی نے بخاری کاہاتھ دیکھا تو اس کے چہرے پر پسینہ آگیا۔وہ حیرت سے بولا کہ آج مجھے اپنے علم پر شک ہونے لگا ہے۔میرے علم کے مطابق تو بخاری مر چکا ہے۔تم میرے سامنے کیسے زندہ بیٹھے ہو۔''یہاں سے واپسی پر بخاری نے نیازی سے مِل کر نجومی کا خوب مذاق اُڑایا اورپھر دفتر کے صحن میں باغ کی ترتیب کے لیے مالی کو ہدایات دینے لگے۔اچانک جس چبوترے پر وہ کھڑے تھے۔اس کی زمین پھٹ گئی اور وہ مالی سمیت کنویں میں جا پڑے۔بڑی مشکل سے کنویں سے نکالا گیااور بے حس و حرکت جسم کو چارپائی پر ڈال دیا گیا۔ان کی سانس‘نبض اور دل کی دھڑکن بند تھی۔پانچ ڈاکٹروں نے آکر دیکھا اور سر ہلا دیا۔آخر ڈاکٹر ہاشمی نے ایک انجکشن لگایاتو سانس بحال ہوئی۔بعد میں نیازی نے ہنستے ہوئے بخاری سے کہا: نجومی کی بات کوئی ایسی غلط بھی نہ تھی۔اس واقعے کے ایک عرصے کے بعد بھی بخاری جب اس دن کو یاد کرتے تو حیرت میں مبتلا ہو جاتے۔
زیڈ اے بخاری ریڈیو کو مشرقی کلاسیکی موسیقی کے فروغ کے لیے بھی استعمال کر نا چاہتے تھے۔اس غرض سے اس زمانے کے معروف فنکار ریڈیو سے پروگرام نشر کرتے تھے۔اس کیلئے فنکاروں سے باقاعدہ کنٹریکٹ ہوتا۔اسی طرح سیاسی رہنماؤں سے تقاریر کرائی جاتیں۔اس دوران جواہر لعل نہرو اور قائداعظم محمد علی جناح نے بھی ریڈیوسے تقاریر نشر کیں۔اس سے ریڈیو سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا کہ بہت کم لوگوں کے گھروں میں ریڈیو ہوتا تھا۔انہی دنوں کی بات ہے بخاری دہلی کے تاج ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے۔کہ ان کی نظر دور ایک میز پر بیٹھے سر آغا خان پر پڑی۔ بخاری کے ذہن میں آیا کہ اگر آغا خان ریڈیو پر تقریر کیلئے مان جائیں تو کیسا ہو؟ یہ سوچ کر زیڈاے ُبخاری سر آغا خان کی میز کی طرف گئے اور ان کے ایک رفیق کار سے مدعا بیان کیا۔ سر آغا خان نے درخواست مان لی اور طے یہ ہوا کہ وہ اسلام اور بین الاقوامی امن کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ اس تقریر کی اخبار میں تشہیر کی گئی۔دن اور وقت کا اعلان ہوا۔اس پر آغا خان کے پیروکاروں کی طرف سے دھڑا دھڑ درخواستیں آنے لگیں کہ اس دن انہیں سٹوڈیو آنے کی اجازت دی جائے۔ ان سب درخواستوں کو منظور کرنا ممکن نہ تھا۔ جب درخواست گزاروں کو پتا چلا تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ سڑک کے کنارے اکٹھے ہوں گے۔ ریڈیو کی سینئر مینجمنٹ کیلئے یہ ایک چیلنج تھا۔سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ادھرعلاقے کے کمشنر کو پتا چلا تو وہ بھی پریشان ہو گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر آغا خان ریڈیو آئے توان کے ہمراہ ہزاروں مداحین آئیں گے۔ ایسے میں نقضِ امن کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ادھر تقریر کا دن قریب آرہا تھا اوردہلی ریڈیو اور شہر کی مینجمنٹ کے اعصاب چٹخنے لگے تھے۔(جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں