نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان نےبنی گالہ گھرکی ویڈیوشیئرکردی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں آج حضرت محمد ﷺکی ولادت کادن منائیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- صدرمملکت آج صبح ایک تقریب کی میزبانی کریں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کنونشن سینٹرمیں منعقدکی گئی تقریب میں شرکت کروں گا،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"SSC" (space) message & send to 7575

وائس چانسلرز کیا کریں؟

کسی بھی معاشرے میں اعلیٰ تعلیم کا اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد طلبا ملک کی تعمیر و ترقی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں صرف دو جامعات تھیں‘ ایک پنجاب یونیورسٹی اور دوسری ڈھاکہ یونیورسٹی‘ لیکن پچھلے تہتر برسوں میں جامعات اور ڈگری دینے والے اداروں کی تعداد بڑھ کر 216 کے قریب ہو گئی ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی شرح دوسرے ممالک کی نسبت کہیں کم ہے۔ یہ تو تھا اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی کا معاملہ لیکن اس سے بھی اہم مسئلہ یہ ہے کہ جو طلبا جامعات میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کا تعلیمی معیار کیا ہے؟
بد قسمتی سے ماضی میں حکومت کی توجہ معیار سے زیادہ مقدار پر رہی‘ اور وقت گزرنے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے معیار پر سنجیدہ سوال اٹھنے لگے۔ یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کی تنزلی میں کون سے عوامل کار فرما ہیں۔ اس موضوع پر مختلف اوقات میں بحث مباحثے ہوتے رہتے۔ کچھ لوگ وسائل کی کمی کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں‘ کچھ نصاب اور درسی کتب کو اس کی بڑی وجہ گردانتے ہیں‘ کچھ کے نزدیک طلبا کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور کچھ کے خیال میں اساتذہ کا غیر پیشہ ورانہ انداز معیار تعلیم پر منفی انداز میں اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان سب باتوں میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہے۔
ماہرین کا ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں تنزلی کی بڑی وجہ جامعات میں طرز حکمرانی ہے۔ اس کے حق میں بہت سے تحقیقی مقالوں کے نتائج کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ مؤثر گورننس سے تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یونیورسٹی میں وائس چانسلر اپنے مرکزی کردار کی بدولت وسائل کو مؤثر انداز میں متحرک کر سکتے ہیں۔ وائس چانسلر کے مرکزی کردار کی حد تک سب کو اتفاق ہے ایک مؤثر وائس چانسلر جامعہ کو ایک ویژن دیتا ہے۔ ان اہداف کو اپنے رفقائے کار کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے انہیں انسپائر کرتا ہے‘ اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے ایک حکمت عملی کا تعین کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جامعہ میں ایک ایسے ماحول کی صورت گری کی کوشش کرتا ہے جہاں فیکلٹی، سٹاف اور طلبا کی پیشہ ورانہ نمو ہو سکے اور جہاں کے سازگار ماحول میں تحقیق کی راہ ہموار ہو سکے۔ ایسی تحقیق جو ہمارے معاشرے کے سماجی، اقتصادی اور ثقافتی مسائل کے جوابات تلاش کر سکے۔
اعلیٰ تعلیم کی تاریخ میں کئی ایسے وائس چانسلرز کے نام جگمگاتے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے ویژن حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے یونیورسٹی کے معیار کو بلند کیا۔ یہ ایسی شخصیات تھیں جن کا تعارف ان کا عہدہ نہ تھا بلکہ ان کا علم اور کردار ہی ان کی شخصیت کا تعارف تھے۔ چند ناموں کو دیکھیے ‘ ڈاکٹر ذاکر حسین (علی گڑھ یونیورسٹی)، ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر معین‘ ڈاکٹر جمیل جالبی‘ ڈاکٹر اشتیاق قریشی (کراچی یونیورسٹی) ڈاکٹر حمید احمد خان (پنجاب یونیورسٹی) اور پروفیسر کرار حسین (بلوچستان یونیورسٹی) یہ سب اپنی تعلیمی فضیلت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب وائس چانسلر کا رعب اور دبدبہ ہوا کرتا تھا اور جامعہ کی سلطنت میں کام کرنے کی مکمل آزادی تھی۔ ہمارا معاشرہ عہدِ حاضر کے وائس چانسلرز سے ان سب خصوصیات کی توقع رکھتا ہے لیکن عام آدمی عہدِ حاضر کے وائس چانسلرزکو درپیش مشکلات سے واقف نہیں۔
پچھلے ہفتے مجھے پنجاب کی جامعات کے نو منتخب وائس چانسلر سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ یہ پنجاب کی سرکاری اور غیر سرکاری جامعات کے نو منتخب وائس چانسلر کے لیے ایک تربیتی پروگرام تھا‘ جس کا اہتمام پنجاب کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کیا تھا‘ جس کے سربراہ معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر فضل خالد ہیں۔ اس پروگرام کا دورانیہ ایک ہفتے کا تھا جس میں مختلف موضوعات پر ریسورس پرسنز کو بلایا گیا تھا۔ ان موضوعات میں تعلیمی اصلاحات اور ان کے چیلنجز‘ سٹریٹیجک پلاننگ، فنانشل پلاننگ، لیڈرشپ اور مینجمنٹ، پروکیورمنٹ، انڈسٹری اور تعلیم کا باہمی تعلق، تدریس اور تعلم کے جدید طریقے، کوالٹی اسیسمنٹ، لرننگ مینجمنٹ سسٹم وغیرہ شامل تھے۔ جس پینل میں مجھے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی دعوت دی گئی‘ وہ پروگرام کے آخری دن تھا۔ اس وقت پروگرام کے شرکا ایک اچھے وائس چانسلر کی صفات اور خوبیوں سے واقف ہو چکے تھے کیونکہ ہر سیشن کا مرکز و محور یہی موضوع تھا۔ سٹیج پر بیٹھے مجھے خیال آیا کہ اگلے وقتوں کے وائس چانسلرز کتنے خوش نصیب ہوا کرتے تھے کہ انہیں اکیڈیمک فریڈم حاصل تھی۔ وہ بیشتر قدغنوں سے آزاد تھے۔ وائس چانسلرز کی یہ تعلیمی آزادی وقت کے ساتھ ساتھ سکڑتی چلی گئی اور معاشرے کے مختلف عوامل کا گھیرا ان کے گرد تنگ ہوتا گیا۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں تین طرح کی یونینز ہوتی ہیں جو یونیورسٹی فیکلٹی، سٹاف اور طلبا کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وائس چانسلرز کے گرد دوسرا گھیرا نام نہاد اور غیر معیاری میڈیا کا ہے۔ دور دراز کے علاقوں کے غیر معروف اخبارات وائس چانسلر کی حرکات و سکنات پر مکمل نظر رکھتے ہیں اور منفی خبروں کے عوض چھوٹی چھوٹی مراعات کے خواہاں ہوتے ہیں۔ وائس چانسلرز کے گرد ایک اور گھیرا نوکر شاہی کا ہے۔ پروگرام کے شرکا میں ایک وائس چانسلر نے بتایا کہ کس طرح ان کی فائلز کو مختلف تنگناؤں سے گزرنا ہوتا ہے جن میں وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن، صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن، سی ایم آفس، گورنر آفس اور لا ڈیپارٹمنٹ شامل ہیں۔ وائس چانسلر آفس کے گرد چوتھا گھیرا سیاسی نمائندوں کا ہوتا ہے جو اپنے حلقے کے ووٹرز کی خوشنودی کے لیے انہیں نوکریاں دلانے کے لیے وائس چانسلرز کے درپے ہوتے ہیں‘ کئی دفعہ تو بات دھمکیوں سے بڑھ کر جسمانی تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔
وائس چانسلر کی مشکلات میں تازہ اضافہ یونیورسٹی فنڈز میں حد درجہ کمی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے جاری منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں۔ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے نئے اقدامات کو عملی صورت نہیں دی جا سکی۔ فنڈز کی بے رحمانہ کٹوتی سے بہت سی پرانی یونیورسٹیاں لڑکھڑانے لگی ہیں۔ وائس چانسلر فیکلٹی اور طلبہ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف پرانی یونیورسٹی کو دینے کے لیے فنڈز نہیں ہیں اور دوسری طرف دھڑا دھڑ نئی یونیورسٹیاں کھل رہی ہیں۔ دو سال میں 50 سے زیادہ یونیورسٹی کو چارٹر دیئے جا چکے ہیں۔
نئی یونیورسٹیوں کے ایکٹ میں وائس چانسلرز کے گرد گھیرا اور تنگ ہو گیا ہے۔ اب یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹ کے اجلاس کی صدارت پروچانسلر یعنی وزیر تعلیم کرتا ہے۔ اب تصور کریں کہ سنڈیکیٹ کے اجلاس میں اگر ایک وزیر صدارت کر رہا ہو اور سنڈیکیٹ میں ایچ ای ڈی، فنانس اور لا کے ڈیپارٹمنٹس کا ایک ایک نمائندہ بیٹھا ہو تو اس نقارخانے میں وائس چانسلر کی کون سنے گا؟ یقینی طور پر فیصلہ سازی پر سنڈیکیٹ کی چیئر کی رائے مکمل طور پر اثر انداز ہوگی۔ شنید ہے کہ آنے والا یونیورسٹی ایکٹ اس سے ایک قدم آگے ہو گا‘ جس میں سلیکشن بورڈ کو بھی وائس چانسلر چیئر نہیں کر سکے گا۔ وائس چانسلرز کے گرد طرح طرح شکنجے تنگ کرنے بعد ان سے مثالی گورننس کی توقع محض خوش خیالی ہے۔ شاید اسی موقع کے لیے حافظ شیرازی نے کہا تھا:
در میانِ قعرِ دریا تختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش
(ترجمہ: تو نے مجھے ایک تختے کے ساتھ باندھ کر سمندر کی گہرائی میں پھینک دیا اور پھر یہ کہا کہ خبردار دامن بھیگنے نہ پائے)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں