"TSC" (space) message & send to 7575

اللہ وسائی سے ملکہ ترنم نور جہاں تک… (2)

نور جہاں کو ملکہ ترنم نور جہاں کا خطاب کس نے دیا تھا؟ یہ جاننے سے پہلے یہ جان لیجیے کہ 60ء سے 80ء کی دہائی تک ملکہ ترنم نور جہاں کے عروج کا زمانہ ہے۔ اس عرصے میں مادام نے اردو اور پنجابی زبان میں ایسے گیت گائے جو میوزک لورز کے لئے گریٹ گفٹ ہیں۔ نورجہاں نے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز متحدہ ہندوستان میں ماسٹر غلام حیدر، سجاد حسین، رفیق غزنوی، کے دتہ، امام بخش، ماسٹر دھومی خاں آف رامپوری، انیل بسواس اور نوشاد صاحب سمیت دیگر موسیقاروں کی کمپوزیشنز سے کیا تھا۔ نورجہاں ایسی خوش قسمت فنکارہ، اداکارہ اور گلوکارہ تھیں جن کے لئے تخلیق کاروں نے اپنی بہترین آئوٹ پٹ مہیا کی۔ بھارت اور پاکستان میں شاعروں اور موسیقاروں کے مابین ایک دنگل چھڑا رہا کہ کون مادام کے لئے بہتر سے بہتر استھائی بناتا ہے اور کون اسے منفرد اور بہترین انداز سے کمپوز کرتا ہے۔ ہندوستان میں نورجہاں کے لئے جن شعرا نے لکھا‘ ان میں موتی لعل مصر ایم اے، ایف ڈی شرف، ولی صاحب، ایم ڈی تاثیر، ڈی این مدھوک، ناظم پانی پتی، منشی شمس، ضیا سرحدی، پرتو لکھنوی، انجم پیلی بھیتی، شیون رضوی، نخشب، رضی الدین بنارسی، عرش حیدری اور تنویر نقوی سمیت دیگر شامل رہے۔ ''جگنو‘‘ کے گیت آذر سرحد ی اور شعری بھوپالی نے لکھے تھے۔ 1947ء کے آغاز میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ''مرزا صاحباں‘‘ کے گیت عزیز کشمیری نے لکھے تھے جبکہ اس کے موسیقار پنڈت امرناتھ تھے۔
پاکستان میں مادام نورجہاں نے پلے بیک سنگنگ کے میدان میں ایسی اننگز کھیلی جو کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔ وہ ایک طرف سندھ کے موسیقاروں غلام نبی‘ عبداللطیف کے لئے ''ہوا سے موتی برس رہے ہیں‘‘ گا رہی تھیں تو دوسری طرف رشید عطرے ان سے ''لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم‘‘ جیسی میلوڈی گوا رہے تھے۔ 1952ء میں ''دوپٹہ‘‘ نمائش پذیر ہوئی‘ جس کے گیت مشیر کاظمی اور عرش لکھنوی نے لکھے تھے اور اس کے موسیقار فیروز نظامی تھے۔ مذکورہ فلم کے لئے مشیر کاظمی کا لکھا گیت ''اک ٹیس جگر سے اٹھتی ہے درد سا دل میں ہوتا ہے‘‘ جبکہ عرش لکھنوی کے لکھے گیت ''تم زندگی کو غم کا فسانہ بنا گئے‘‘ اور دوسرا گیت ''جگر کی آگ کو اس دل میں جلتا دیکھتے جائو‘‘ زبان زدعام ہوئے۔ نورجہاں کو قدرت نے ایسا گلا دیا تھا کہ موسیقار جس طرح کی بھی دھن کمپوز کرتے مادام انہیں چار چاند لگا دیتیں۔ پاکستان میں جن شعرا نے نورجہاں کے لئے گیت لکھے ان میں بابا عالم سیاہ پوش، قتیل شفائی، طفیل ہوشیارپوری، سیف الدین سیف، حکیم شجاع، منیر نیازی، فیض احمد فیض، فیاض ہاشمی، احمد راہی، حبیب جالب، تسلیم فاضلی، جوش ملیح آبادی، مسرور انور، مظفر وارثی، کلیم عثمانی، شیون رضوی، صہبا اختر، ریاض شاہد، سعید گیلانی، خواجہ پرویز، وارث لدھیانوی، حزیں قادری اور تنویر نقوی نمایاں رہے۔ مادام کے ساتھ جن موسیقاروں نے پاکستان میں کام کیا ان کی فہرست بھی طویل ہے۔ ان میں ماسٹر غلام حیدر، فیروز نظامی، رشید عطرے، بابا جی اے چشتی، خواجہ خورشید انور، ماسٹر عنایت حسین، تصدق، دیبو بھٹاچاریہ، سلیم اقبال، اے حمید، ماسٹر عبداللہ، نثار بزمی، خلیل احمد، وزیر افضل، اختر حسین اکھیاں، ایم اشرف، نذیر علی، ناشاد، کمال احمد، سہیل رعنا، وجاہت عطرے، ذوالفقار علی اور ایم ارشد سمیت دیگر شامل ہیں۔
مادام کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ نورجہاں بچپن اور جوانی میں خوبصورت نہیں تھیں۔ ان کے ابتدائی سٹل فوٹوز جو آج تک محفوظ ہیں‘ دیکھیں تو لگتا ہے کہ نورجہاں واقعی کوئی قیامت نہیں تھیں بلکہ ''قیامت صغریٰ‘‘ بھی نہ تھیں‘ مگر جوں جوں ان کے فن میں پختگی آئی اور انہوں نے خود کو گروم کیا نورجہاں حسن و جمال کا تاج محل دکھائی دینے لگیں۔ نورجہاں کے استاد غلام محمد قصوری المعروف گامے خاں نے اپنی آخری عمر میں مجھے ایک انٹرویو دیا تھا‘ جس میں استاد نے مجھے نورجہاں کے متعلق بڑی دلچسپ باتیں بتائیں۔ میں نے استاد سے پوچھا کہ آپ کی نورجہاں سے پہلی ملاقات کب ہوئی؟ جواب میں استاد نے کہا: میں نورجہاں سے نہیں اللہ وسائی سے ملا تھا اور اس وقت ملا تھا جب اس کی عمر صرف چھ دن تھی۔ اللہ وسائی کی پھوپھی اور والد اسے بابا بلھے شاہ سرکار ؒ کے مزار پر سلام کرانے لے جا رہے تھے اور وہیں دربار پر ہی اللہ وسائی کی ''جھنڈ‘‘ (نوزائیدہ کے سر کے پیدائشی بال) اتروائی گئی تھی۔ بابا بلھے شاہ ؒ کے مزار پر ہی الٰہی جان اور نورجہاں کے والد نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اسے گیت سنگیت کی تعلیم دوں گا۔ استاد گامے کا یہ عالمگیر جملہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ نورجہاں نے توتلی زبان میں سرگم پلٹا شروع کیا تھا۔ مراد یہ کہ نورجہاں نے موسیقی کے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ اتنی چھوٹی عمر میں شروع کر دیا تھا کہ ابھی وہ الفاظ بھی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر سکتی تھیں اور توتلی زبان میں باتیں کرتی تھیں۔
دولت اور شہرت نورجہاں پر تمام عمر عاشق رہیں۔ نگار خانوں میں نورجہاں کے فن کا معاوضہ بھی منہ مانگا ادا کیا گیا۔ 1960ء میں نورجہاں نے اعلان کیا کہ وہ اب صرف گلوکاری ہی کریں گی۔ اس سے قبل نورجہاں فلموں میں ہیروئن کا کردار بھی نبھا رہی تھیں۔ سستے زمانوں میں نورجہاں نے ایک گیت کا معاوضہ دو ہزار روپے کر دیا۔ یاد رہے کہ یہ میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار کا دور نہیں تھا کہ جس میں 2000 ہزار روپے سکڑ کر 20 روپے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اس زمانے میں دو ہزار میں لاہور کے گلبرگ میں قطعہ اراضی مل جایا کرتی تھی۔ نورجہاں نے اپنا معاوضہ 500 روپے سے 2000 روپے کیا تو انہیں موسیقار رشید عطرے نے فلم ساز اشفاق ملک کی فلم ''سلمیٰ‘‘ کے لئے جو گیت گوائے اس کے بول تھے... زندگی ہے یا کسی کا انتظار ہے... اسی دور میں زبیدہ خانم، نسیم بیگم، منور سلطانہ اور کوثر پروین بھی گا رہی تھیں مگر نورجہاں ان میں سٹار سنگر سمجھی جاتی تھیں۔ اپنے کیریئر کا طویل عرصہ نورجہاں نے اردو گیت گائے‘ انہیں کسی سیانے نے کہہ رکھا تھا کہ پلے بیک سنگنگ میں اگر اپنا نام محترم چاہیے تو پنجابی فلموں کے گیت نہ گانا۔ نورجہاں کا پنجابی گیتوں کی طرف آنا بھی ان کے کیریئر میں ایک ہنگامہ تھا۔ موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور کے نامی گرامی پہلوان اچھا شوکر والہ کے جگری دوست تھے۔ اچھا پہلوان اپنے دوست عبداللہ کو موسیقار اسٹیبلش کرنا چاہتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نورجہاں اپنے دور کے بے مثل موسیقاروں کے لئے گا رہی تھیں۔ ماسٹر عبداللہ نے یہ چیلنج قبول کیا اور ایک ایسی استھائی تیار کی جس نے پاکستان کی فلمی موسیقی میں ایک کمرشل انقلاب برپا کر دیا۔ گیت کے بول تھے ''شکر دوپہرے پپلی دے تھلے میں چھنکائیاں ونگاں‘‘ ماسٹر عبداللہ نے یہ پنجابی گیت فلم ''ملنگی‘‘ کیلئے گوایا‘ جسے نیلو پر فلمبند کیا گیا۔ ''ملنگی‘‘ کے اس گیت کے بعد نورجہاں نے سینکڑوں پنجابی فلموں کے لئے ان گنت گائے جن میں بعض کی دھنیں بناتے ہوئے موسیقاروں نے کمال مہارت سے کام لیا۔ 
نورجہاں کو ملکہ ترنم نورجہاں کب کہا گیا؟ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دنوں میں ملی ترانے گا کر نورجہاں سارے پاکستان کی محبوب بن چکی تھیں۔ اس وقت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات الطاف گوہر صدر ایوب کے بہت قریب تھے اور سرکاری میڈیا پر ان کا آرڈر چلتا تھا۔ نورجہاں عوام کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی بھی ہمیشہ فیورٹ رہیں۔ 65ء کی جنگ کے ملی ترانوں نے ان کے سٹارڈم کو نیشنل ازم کی ایسی ضرب لگائی کہ وہ نورجہاں سے ملکہ ترنم نورجہاں بن گئیں۔ واقعہ یہ ہے کہ الطاف گوہر نے ریڈیو حکام کو آرڈر کیا کہ مادام نورجہاں کا نام پروٹوکول اور احترام کے ساتھ نشر کیا جائے۔ ان دنوں لاہور ریڈیو پر صوفی تبسم کے ڈیرے ہوا کرتے تھے‘ جہاں ایوب رومانی اور کئی دوسرے شاعر بھی اکٹھے بیٹھتے تھے۔ وہیں کسی نے نورجہاں کو ''ملکہ ترنم نورجہاں‘‘ کا نیا عنوان دیا اور پھر سرکاری آرڈر کر دیا گیا کہ نورجہاں کو آئندہ ''ملکہ ترنم نورجہاں‘‘ کے نام سے لکھا اور پکارا جائے گا۔ یہ درست ہے کہ نورجہاں کو ''ملکہ ترنم‘‘ کا خطاب ریاستی اور سرکاری ادارے نے دیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نورجہاں ہمیشہ ملکہ ترنم کی حیثیت سے موسیقی کے جہان پر حکومت کرتی رہیں گی۔ (ختم) 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں