نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنرچودھری سرورسےچیئرمین پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن کی ملاقات
  • بریکنگ :- پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن نےطلبا کیلئےرہنمائی پورٹل کابھی آغازکردیا
  • بریکنگ :- پنجاب میں 15 نئی یونیورسٹیز پرکام کاآغازہوچکا،چودھری سرور
  • بریکنگ :- لاہور:10 یونیورسٹیزکوریسرچ کیلئےفنڈزبھی جاری،گورنرپنجاب
Kashmir Election 2021

ریلوے حادثات اورسیاسی الزامات

موت اورحادثات بتا کر نہیں آتے‘ لیکن پاکستانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے توتجربات اورمشاہدات یہی سبق دیتے ہیں کہ محفوظ سفر کیلئے پیدل چلنا ہی بہتر ہے ‘کیونکہ مختلف کمپنیوں کے طیاروں کوپیش آنے والے حادثات نے ملک میں فضائی سفر کوخوفناک بنا دیاتھا اورلوگوں نے زمینی سفر کوترجیح دینا شروع کردی تھی لیکن گزشتہ ہفتے موٹروے پولیس نے ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی بسوں پر اس لیے پابندی عائد کردی کہ اس کمپنی کے ڈرائیوروں کی غفلت سے آئے روز ٹریفک حادثات رونما ہونے لگے تھے جن میں متعدد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔ جہاز اوربس خطرناک قرار پانے کے بعد عام آدمی کیلئے صرف ٹرین ہی سفر کاواحد ذریعہ رہ گئی تھی لیکن پیر سات جون کی صبح ڈہرکی کے قریب دو ٹرینوں میں خوفناک تصادم کے نتیجے میں60سے زائدمسافر جاں بحق جبکہ 100سے زائد زخمی ہو گئے۔ ملت ایکسپریس کی بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جاگریں اورمخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ٹرین حادثے کے ایک زخمی مسافر نے بڑا انکشاف کیا کہ ملت ایکسپریس کا کلمپ پہلے سے ہی ٹوٹا ہوا تھا جس کا ریلوے حکام کو علم تھا اسی وجہ سے ٹرین لیٹ ہوئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر مرمت کے بعد روانہ کی گئی‘تاہم ڈہرکی کے قریب اتنا بڑا حادثہ پیش آگیا۔وزیراعظم نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جامع انکوائری کا حکم دے دیاہے اوراب ذمہ داران کاتعین تو رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوسکے گالیکن اس سانحہ نے ماضی میں پیش آنے والے ریل حادثات کی یاد بھی تازہ کردی اور یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ پاکستان ریلوے کاموجودہ نظام بھی محفوظ سفر کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
پاکستان ریلوے کے بھیانک حادثات کی تاریخ میں خوفناک حادثات زیادہ تر ضلع گھوٹکی میں ہی پیش آئے ہیں۔پاکستان میں ریل گاڑیوں کو پہلا بڑا حادثہ 1953ء میں پیش آیاجس میں 200مسافر جاں بحق ہو گئے‘دوسرا حادثہ جنوری 1954ء میں پیش آیا تھا۔ لاہور سے کراچی جانے والی ایک مسافر گاڑی ضلع ٹھٹھہ میں جھمپیر اور براڈ آباد کے درمیان کھڑی ایک مال گاڑی سے جا ٹکرائی تھی جس سے کم از کم 60افراد کی جانیں گئیں۔29ستمبر 1957ء کو لاہور سے کراچی جانے والی ایک مسافر ٹرین پوری رفتار کے ساتھ اوکاڑہ کے نواح میں ایک ریلوے سٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی ۔ اس واقعے میں300 سے زائدافراد جاں بحق ہوگئے۔آٹھ اگست 1972ء کو لیاقت پور کے مقام پر کانٹے والے کی غلطی کی وجہ سے ایک ایکسپریس ٹرین سائیڈ پر موجود پٹری پر چلی گئی جہاں ایک مال گاڑی پہلے سے کھڑی تھی‘ اس واقعے میں 60افراد کی جانیں گئیں۔31جولائی 1981ء کو کراچی سے پشاور جانے والی عوام ایکسپریس بہاولپور کے قریب پٹری سے اتر گئی‘ جس میں کم از کم 30افراد جان سے گئے۔ تین جنوری 1990ء کو روہڑی اور پنوعاقل کے درمیان سانگی کے مقام پر ایک ایسا حادثہ پیش آیاجو آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ ہے۔ ملتان سے کراچی جانے والی بہا ء الدین زکریا ایکسپریس کانٹے والے کی غلطی کی وجہ سے پوری رفتار سے غلط پٹری پر چلی گئی جس پر پہلے سے ایک خالی مال گاڑی کھڑی تھی۔ یوں زکریا ایکسپریس تقریباً 60کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اس مال گاڑی سے جا ٹکرائی۔ واقعے میں307 افراد کی جانیں گئیں اور700 سے زائد زخمی ہوئے۔یہ سٹیشن بھی گھوٹکی کے قریب واقع ہے۔گھوٹکی ریلوے سٹیشن پر اگلے ہی سال ایک اور حادثہ پیش آگیا جب کراچی سے راولپنڈی جانے والی ایک ایکسپریس ٹرین اس سٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی تھی جس میں100افراد کی جانیں گئیں۔1992ء میں ایک مرتبہ پھر گھوٹکی ریلوے سٹیشن پر ایک حادثہ ہوا جس میں54 افراد کی جانیں گئی اور واقعہ ہو بہو یہی تھا کہ مسافر ٹرین مال گاڑی سے جا ٹکرائی۔تین مارچ 1997ء کو کراچی سے پشاور جانے والی ایک ریل گاڑی کے بریک فیل ہو گئے اورپانچ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں‘اس واقعے میں 110 افراد کی جانیں گئیں اور150 زخمی ہوئے۔2005ء میں ایک مرتبہ پھر ضلع گھوٹکی میں سرحد نامی ریلوے سٹیشن پر کوئٹہ ایکسپریس ایک خرابی کی وجہ سے کھڑی تھی کہ پیچھے سے کراچی ایکسپریس آ گئی‘دونوں ریل گاڑیوں میں ٹکر کے نتیجے میں دونوں کے تین ڈبے پٹری سے اتر گئے اور دوسری طرف والی پٹری پر گر گئے۔ عین اسی وقت دوسری طرف سے تیز گام آ گئی‘ جس نے ان گرنے والے ڈبوں کو روند ڈالا۔ اس خوفناک حادثے میں کل17 ڈبے بری طرح تباہ ہوئے ‘150 افرادجاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔19دسمبر 2007ء کو لاہور سے کراچی جانے والی کراچی ایکسپریس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور رات کے دو بجے محراب پور کے قریب تھی کہ اچانک غالباًپٹری خراب ہونے کی وجہ سے اس کے16 میں سے 14 ڈبے پوری رفتار کے ساتھ پٹری سے اتر گئے۔ سرکاری اعداد و شمار میں تو اموات کی تعداد صرف 40 بتائی گئی لیکن یہ تعداد اصل میں کہیں زیادہ تھی۔نومبر 2009ء میں کراچی کے نواح میں علامہ اقبال ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا جس میں18 افراد جاں بحق ہوئے۔ جمعہ گوٹھ ریلوے سٹیشن کے قریب علامہ اقبال ایکسپریس کے ڈرائیور نے ایک سگنل کو نظر انداز کیا اور مال گاڑی سے جاٹکرائی۔دوجولائی 2015ء کو پاک فوج کی ایک مسافر ریل گاڑی جامکے چٹھہ‘ضلع گوجرانوالہ کے قریب چھناواں نہرکا پل گرنے سے کئی ڈبے پٹری سے اتر گئے ‘ ایک ڈبہ نہر میں بھی جا گرا۔ پاک فوج نے19 افراد کے جاں بحق ہونے اور100 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔17نومبر 2015ء کو راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو آبِ گم ریلوے سٹیشن کے قریب حادثہ پیش آیا۔ یہ ریلوے سٹیشن سبی سے کوئٹہ جاتے ہوئے مچھ سے پہلے آتا ہے جہاں جعفر ایکسپریس کی چاربوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ واقعے میں کم از کم 20افراد جاں بحق ہوئے اور 96کے قریب زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔تین نومبر 2017ء کو کراچی کے قریب لانڈھی ریلوے سٹیشن پر لاہور سے کراچی آنے والی فرید ایکسپریس کو ملتان سے کراچی آنے والی بہاء الدین زکریا ایکسپریس نے پیچھے سے ٹکرمار دی۔ تحقیقات کے مطابق یہ حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیوروں کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا تھا‘حادثے میں کم از کم 21افراد جاں بحق اور 65زخمی ہوئے۔ماضی قریب میں سب سے افسوسناک واقعہ31 اکتوبر 2019ء کو پیش آیا۔ یہ صبح چھ بجے کا وقت تھا جب تیز گام کراچی سے لاہور جا رہی تھی‘ جس میں 933مسافر سوار تھے۔ رحیم یار خان کے قریب اچانک چلتی گاڑی کے ایک ڈبے میں آگ لگ گئی لیکن زنجیر کھینچنے کے باوجود ریل گاڑی نے رکنے کی بجائے چلتی رہی جس سے یہ آگ مزید پھیلی اور20 منٹ بعد گاڑی روک کر آگ پر قابو پایا گیا۔ اس حادثے میں 75مسافرجاں بحق ہوئے جن میں سے57 کی لاشیں تک ناقابلِ شناخت ہو چکی تھیں‘ جنہیں بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کیا گیا۔
ماضی کی تحقیقات کے مطابق ریلوے کے عملے کی نااہلی حادثات کا سب سے بڑا سبب ہے‘ کبھی ڈرائیور کی غفلت اور کبھی کانٹے بدلنے والے کی نا اہلی‘ لیکن اس سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر سانحہ پر ہماری حکومت اوراپوزیشن نے اس کا مستقل حل تلاش کرنے کی بجائے محض سیاست چمکائی اورایک دوسرے پرالزام تراشی کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا ریلوے کانظام بوسیدہ ہے اوراس کا حل ایم ایل ون منصوبہ ہی ہے تاہم اگر اربابِ اختیار مخلص ہوں توگھوٹکی سمیت انتہائی بوسیدہ ٹریک کی مرمت کرکے بھی حادثات کاخطرہ کم کیاجاسکتاہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں