قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنا آسان نہیں

2021ء کی بات ہے‘ اس وقت پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر اسلام آباد کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے اکثر صبح کے اوقات میں چہل قدمی کرتے تھے‘ جن کی تصاویر بھی وہ اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر شیئر کرتے رہتے۔ ایک صبح انہوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر چہل قدمی کرتے ہوئے وہاں پر پھیلی گندگی اور پلاسٹک بیگز اکٹھے کر کے تصاویر شیئر کی تھیں اور گندگی نہ پھیلانے کی گزارش کی تھی۔کرسچن ٹرنر کی ایک اور ٹویٹ بھی اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور ہرطرف موضوعِ بحث بنی رہی جس میں انہوں نے اپنی صبح کی چہل قدمی کی ایک تصویر شیئر کی۔ اس تصویر میں ہائی کمشنر اپنے دونوں ہاتھوں میں کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک سے بھرے دو بڑے بیگز اٹھائے کھڑے تھے۔ یہ کوڑا دراصل انہوں نے صبح کی چہل قدمی کے دوران جمع کیا تھا۔ انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ''صفائی نصف ایمان ہے‘‘۔ سابق برطانوی سفیر کی ٹویٹ کا کچھ دن تو اثر رہا اور ہماری نوجوان نسل عوامی مقامات سے کوڑا کرکٹ جمع کرکے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی رہی لیکن بدقسمتی سے پھر شاید کوئی نیا ٹرینڈ سامنے آگیا جس کے بعد ہماری قوم نئے ٹرینڈ پر چل پڑی اور پھر صفائی والا جذبہ دھرا رہ گیا۔ ویسے بھی پاکستانی قوم کو کوئی بات سمجھانا یا اس کے ضمیر کوجھنجھوڑنا اتنا آسان نہیں۔ ہم ہر بات کامطلب اورتشریح اپنی پسند‘ سہولت اورمرضی کے مطابق کرتے اورچاہتے ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جنہیں ہم اچھا تو سمجھتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد صرف دوسروں سے چاہتے ہیں۔ ہم دوسروں کونصیحتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے۔ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنا تو آسان نہیں لیکن بھیڑچال میں ہم اکثر سب کچھ تہس نہس کردیتے ہیں۔
ہم قرآن وحدیث نبویﷺ پر چل رہے ہیں اور نہ ہی آئینِ پاکستان پر اس کی روح کے مطابق عمل کررہے ہیں۔ ہم اپنی اسلامی‘ سماجی‘ معاشرتی اوراخلاقی اقدار کوبھول چکے ہیں۔ وہ سبق جو ہمارے آقا حضرت محمدمصطفیﷺ نے ہمیں 1400 سال پہلے دیاتھا اورجدید سائنس آج ہمیں اس پر سو فیصد عمل پیرا ہونے کی تلقین کررہی ہے‘ جسے ہم اپنی صحت وزندگی کی ضمانت بھی سمجھتے ہیں اور اپنے خوشگوارماحول کے لیے ضروری بھی مانتے ہیں۔ ہم اس کے لیے دوسروں کودرس بھی بہت دیتے ہیں لیکن ہمارے قول وفعل میں تضاد ہے اور ہم خود اس پر صحیح سے عمل نہیں کرتے۔ حدیث نبوی ﷺ ہے کہ؛ صفائی نصف ایمان ہے۔ ہم پہلی جماعت سے اپنی کتابوں میں یہ سبق پڑھتے آرہے ہیں‘ ہمارے والدین نے بھی پہلا سبق یہی دیا‘ اساتذہ کرام بھی یہی درس دیتے رہے لیکن جیسا کہ پہلے کہاکہ اس قوم کے ضمیر کوجھنجھوڑنا اتنا آسان نہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ بھی نہیں کہ ہمارے ضمیر بالکل ہی مردہ ہوچکے ہیں۔ بس یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہماری پسند‘ سہولت اورمرضی کے مطابق چلتے ہیں‘ کبھی کوئی اسے جھنجھوڑنے کی کوشش کرے تو ہم وقتی طور پر شرمندگی ضرور محسوس کرتے ہیں جو اس بات کاثبوت ہے کہ ابھی ہمارے ضمیر مردہ نہیں ہوئے۔
وطنِ عزیز پاکستان قدرت کے حسین مناظر اوردلکش وادیوں سے بھرپور ہے لیکن ہم آج تک اپنی سرزمین کی خوبصورتی سے فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ دنیا اس کی معترف ہے لیکن اس کے باوجود ہم سیاحت کوفروغ نہ دے سکے بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ دو دہائیاں قبل دنیا بھر سے جتنے سیاح ارضِ پاک کا رُخ کرتے تھے‘ آج ہم ان سے بھی محروم ہوچکے ہیں اوراس کی وجہ ہماری اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیاں‘ کوتاہیاں اور قومی ومعاشرتی ذمہ داریوں سے دوری ہے۔ ہم اپنے قدرتی سیاحتی مقامات کی نہ تو حفاظت کررہے ہیں اورنہ ہی صفائی کاخیال رکھتے ہیں جو ایسی جگہوں کی سب سے بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم عوامی مقامات پر کھانے پینے کی فالتو اشیا‘ شاپنگ بیگز‘ استعمال شدہ ٹشو پیپرز‘ خالی ڈبے‘ بوتلیں‘ گتے کی پیکنگ اور دیگر استعمال شدہ سامان پھینک دیتے ہیں۔ جس جگہ ہم سیروتفریح یاپکنک پارٹی کے لیے جاتے ہیں‘ پکنک کے اختتام پر اُس جگہ کی صفائی کواپنی ذمہ داری سمجھتے ہی نہیں اوراتنا بھی نہیں کرتے کہ جس شاپنگ بیگ میں ہم اپنا کھانے پینے کاسامان لائے تھے اب خالی بوتلیں‘ ریپر اورڈبے اسی میں ڈال کر اپنی گاڑی میں رکھ لیں اور واپس جاکر انہیں کسی کوڑادان میں ڈال دیں۔اس سے نہ صرف ان عوامی مقامات کی صفائی وخوبصورتی برقرار رہے گی بلکہ ماحول بھی صاف وشفاف رہے گا اور سب سے بڑھ کر بچے بھی ہماری اس عادت کو اپنائیں گے اور یہ ان کی اچھی تربیت کا سبب بھی بنے گا۔
صفائی ایک مجرد کیفیت ہے جو صاف رہنے اور جراثیم‘ گندگی‘ کچرے یا غلاظت سے دوری ہے۔ یہ ایک عادت ہے جسے ہر فرود کو اختیار کرنا چاہیے۔ طبی نقطۂ نظر سے بھی تحقیق و جستجو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ گندگی سے وائرس اور جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ 70فیصد کے قریب انسانی اور حیوانی بیماریوں کا سبب غلاظت اور گندگی ہے۔ حکومتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ صفائی کا اہتمام کریں۔ گندہ پانی پینے سے بھی امراض پیدا ہوتے ہیں

 

لہٰذا رعایا کے لیے صاف پانی کا انتظام کریں‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں بھی ہم رہ رہے ہوں‘ اپنے گھروں اور ارد گرد کی صفائی ہماری انفرادی اور اجتمائی ذمہ داری بھی ہے۔ بچوں میں بیماریوں سے بچائو کے لیے قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے لہٰذا گندگی کی صورت میں بیماریوں کا زیادہ تر اثر پھول جیسے بچوں کی صحت پر ہوتا ہے۔ ماحول کے ساتھ ساتھ کھانے پینے میں صفائی کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے۔ کھانے پینے کے اشیائی مواد سے لے کر کچن اور برتنوں کی صفائی کی حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق بہت اہمیت ہے‘ ورنہ اس گندگی سے پیچیدہ امراض جنم لے کر باعثِ پریشانی بنتے ہیں۔پانی اور کوڑا کرکٹ کئی دنوں تک ایک جگہ پڑے رہیں تو اس کی غلاظت سے ایسے موذی مچھر اور خطرناک جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو جان لیوا امراض کا سبب بنتے ہیں‘ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ گھر سے روزانہ کی بنیاد پر کوڑا اٹھایا جائے اور پانی والی ٹینکی کی صفائی بھی کم ازکم سہ ماہی بنیاد پر ضرور کی جائے کیونکہ پانی صفائی سے لے کر خواراک تک ہر جگہ استعمال ہوتا ہے اور اگر پانی ہی صاف نہ ہوگا تو پھر اس سے تیار شدہ خوراک بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
ایک بات تو واضح ہے کہ جب تک ہم بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کااحساس نہیں کریں گے‘ جب تک ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کریں گے‘ جب تک ہم صفائی کی عادت کواپنی زندگی کامعمول نہیں بنائیں گے‘ جب تک ہم کوڑا کرکٹ پھیلانے کے بجائے صفائی پر توجہ نہیں دیں گے اور کھانے پینے کے بعد خالی بوتلوں اورپیکٹوں کو اکٹھا کرکے کوڑادان میں نہیں ڈالیں گے اس وقت تک صرف حکومت‘ انتظامیہ یا صفائی کانظام چلانے والے ادارے کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس سبق کوبھی یاد کرناہوگا جو ہم بچپن سے پڑھتے اورسنتے آرہے ہیں اور جوہماراعقیدہ ہے کہ 'پاکیزگی( صفائی) نصف ایمان ہے‘۔ ہم نے آج سے عملی طور پر صفائی کے ذریعے دنیا بھر کویہ پیغام دیناہے کہ صفائی ہمارا شعار اور ایمان ہے اور اب ہم ان شاء اللہ اپنے عمل کے ذریعے اپنے ماحول کوخوشگوار بناکر دنیا بھر کے سیاحوں کوبھی اس خوبصورت سرزمین کی طرف متوجہ کریں گے اوراپنے عمل سے دنیا کو سکھائیں گے کہ صفائی بہت ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں