پوٹاش والی کھاد سے کماد کی فصل کے تنے مضبوط ہوتے ہیں
جدید ٹیکنالوجی سے کماد کی پیداوار بہتر بناکر زیادہ چینی حاصل کی جاسکتی ہے ،ماہرین
فیصل آباد (اے پی پی)ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ پاکستان میں فی ایکڑ کماد سے اوسطاً 46من جبکہ اس کے برعکس مصر میں 127اور آسٹریلیا میں 138من چینی حاصل کی جاتی ہے لہٰذا اگر ہمارے کاشتکار بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں تو وہ بھی کماد کی پیداوار کو بہتر بناتے ہوئے چینی کی زیادہ مقدار حاصل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ماہرین زراعت نے بتا یا کہ ان کے مشورہ سے پوٹاش والی کھاد کااستعمال انتہائی مفید اثرات کا حامل ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف فصل کے تنے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ فصل کو گرنے سے بچانے اور بہتر قوت مدافعت کے ساتھ ساتھ گرمی وسردی کے منفی اثرات سے بھی محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ پوٹاش والی کھاد کماد کی فصل میں چینی کی ریکوری میں اضافہ کا موجب بنتی ہے جس سے گنے کی مٹھاس میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے چینی اور گڑکی زیادہ پیداوار بھی حاصل ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں شوگر ریکوری میں کمی کی اہم ترین وجہ کھادوں کا غیر متوازن استعمال اور پوٹاش والی کھادوں کا استعمال بالکل نہ ہونا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کماد کے کاشتکار ماہرین زراعت کے مشورہ سے پوٹاش والی کھاد کا استعمال یقینی بنائیں اور فصل میں یہ کھاد 2سے 3اقساط میں ڈالی جائے ۔