انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، تحقیقاتی افسر تبدیل

کراچی: (دنیا نیوز) کراچی پولیس کو منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مل گیا، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کیلئے اپنی تحویل میں لے لیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، عدالت کے روبرو آج ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی دوبارہ استدعا کی گئی تھی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی پر ماضی کے مقدمات کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی ہیں، تاہم جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتاری کا خدشہ پہلے سے تھا، ایک اور آڈیو سامنے آگئی ہے جس میں مبینہ طور پر انمول عرف پنکی اپنے کلائنٹس کو آگاہ کر رہی ہے کہ اگر وہ یہ پیغام سن رہے ہیں تو یا اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔

آڈیو کے مطابق وہ کہتی ہے کہ اگر اسے کچھ ہوتا ہے تو اسی نمبر سے کوئی رابطے میں آئے گا، اور رابطہ کرنے والا اس کا ایک مرد دوست ہوگا جو اس کام کو ہینڈل کرے گا، آڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو اسی نمبر سے کام جاری رکھا جائے گا۔

دوسری جانب کراچی پولیس میں معاملے کی تحقیقات سے متعلق بھی تبدیلی کی گئی ہے، ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کے مطابق عرفان بلوچ عدالت میں پیشی کے دوران سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات کریں گے، جبکہ پروٹوکول پر عمل نہ کرنے کے معاملے کی بھی انکوائری کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو 3 دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور غفلت و لاپروائی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ کراچی میں گارڈن کے علاقے سے کوکین اور منشیات کی بڑی سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کر کے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور پستول برآمد کی گئی تھی۔

گارڈن کے علاقے میں پولیس اور سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے 1 پستول، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کراچی میں منشیات بیچنے کے الزام میں گرفتار خاتون کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی ہوئی تھی، ملزمہ بے خوف انداز میں عدالتی راہداریوں میں گھومتی رہی تھی۔

گرفتار ملزمہ کو پرٹوکول دینے پر ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال،ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو بھی معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ واقعے کی انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کر دی گئی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں