امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں ناکام
ستمبر میں 1,31811 جبکہ 30 اکتوبر تک مزید نئے ٹیکس ریٹرن جمع ہوئے ، تیسری بار ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع پر غور دوسری سہ ماہی کیلئے ٹیکس ریونیو کا ہدف 750 ارب مقرر ، ایف بی آر نے تمام چیف کمشنرز کو ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کی ہدایت کردی
اسلام آباد(آن لائن)حکومت کی جانب سے امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں ناکام دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ اب تک صرف 263000 افراد نے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے ہیں ،رپورٹس کے مطابق اب تک صرف 263000 افراد سے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میںگزشتہ سال 445000 افراد نے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے تھے جو 182000 ریٹرن یا 40.8فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں ، رپورٹس کے مطابق حکومت تیسری مرتبہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع پر غور کررہی ہے اور نئی ڈیڈ لائن مزیدبڑھائی جاسکتی ہے ۔ ستمبر میں 131811 ریٹرن فائل کیے گئے جبکہ 30اکتوبر تک 131189 مزید نئے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے گئے گزشتہ سال لگ بھگ 400000 تنخواہ دار افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے تھے جبکہ کمپنیوں کی جانب سے ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد 25000 رہی، ای فائلنگ میں کراچی مرکز میں 58000ریٹرن ، لاہور میں 24000 ، فیصل آباد سے 17000ریٹرن اور راولپنڈی سے 18000 ریٹرن جمع کروائے گئے ہیں، ادھر رواں مالی سال دوسری سہ ماہی کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 750 ارب روپے مقرر کردیا گیا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام چیف کمشنرز کو ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کی ہدایت کردی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے چیئر مین طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پہلی سہ ماہی میں محصولات کی وصولی ہدف سے 40ارب روپے کم رہی، رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے ریونیو کا ہدف750 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریو نیو کے چیئرمین نے تمام چیف کمشنرز کو ہدایت کہ ہے کہ تمام ممکنہ اقدامات کے تحت ٹیکس کے دائرہ وسیع کیا جائے ۔