پنجاب میں پن بجلی منصوبے شروع کرنیکا فیصلہ

 پنجاب میں پن بجلی منصوبے شروع کرنیکا فیصلہ

حکومت کنسلٹنٹ کے ذریعے 10 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے فزیبلٹی سٹڈی کرائے گی پانی کی وافر دستیابی والے مقامات کی نشاندہی کی جائیگی،فزیبلٹی اسٹڈی دو سال میں مکمل ہوگی

لاہور(صبغت اﷲ چوہدری) پنجاب میں پن بجلی کی پیداوار کیلئے 9 اضلاع کا تفصیلی سروے کیا جائیگا، صوبے میں پانی سے بجلی کی پیداوار کے پوٹیشنل کا اندازہ لگانے کیلئے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے ،جس کے تحت حکومت کنسلٹنٹ کے ذریعے 10 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے اٹک، راولپنڈی، جہلم، چکوال، خوشاب ، میانوالی، گجرات، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع کی فزیبلٹی اسٹڈی کروائے گی۔ منصوبے کی دستاویزات کے مطابق میدانی علاقوں میں بہنے والی نہروں کو صرف آبپاشی کیلئے استعمال میں لایا جا رہا ہے جو پوٹینشل کا ضیاع ہے ، فزیبلٹی اسٹڈی میں ایسے مقامات کی نشاندہی کی جائیگی جہاں پانی کی وافر دستیابی اور بجلی کی پیداوار متوقع ہو جبکہ پلانٹ کی انسٹالمنٹ، آبی ذخیرے کے سائز اور اخراجات کا بھی تخمینہ لگایا جائیگا۔ علاوہ ازیں کنسلٹنگ فرم مذکورہ 9 اضلاع میں پانی سے بجلی پیداکرنے کے منصوبوں سے متعلق تکنیکی، ماحولیاتی، مالی ، قانونی اور ادارہ جاتی معاملات کا بھی جائزہ لے گی،منصوبہ شروع کرنے سے پہلے اس بات کو مدنظر رکھا جائیگا کہ مضافات میں صارفین کی تعداد اور طلب کتنی ہے اور انہیں کس حد تک فائدہ ہوگا، یہ تمام فزیبلٹی اسٹڈیز دو سال کے عرصے میں مکمل کی جائینگی۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر طاہر بشارت چیمہ نے ‘‘دنیا’’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ بحران پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے ،انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کے سیکریٹری جنرل میاں سلطان نے ‘‘دنیا’’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے ہمیں ہائیڈرل پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کیلئے انرجی مکسر بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں