تھر کا کوئلہ ملک کومعاشی و توانائی بحران سے نکال سکتا ہے ،ماہرین

تھر کا کوئلہ ملک کومعاشی و توانائی بحران سے نکال سکتا ہے ،ماہرین

کراچی(بزنس رپورٹر)تھر کے کوئلے سے ملک کومعاشی و توانائی بحران سے نکالا جا سکتا ہے ،چین، آسٹریلیا و دیگر ملکوں کی ترقی کوئلے سے پیدا کی جانیوالی بجلی کے مرہون منت ہے ،ملکی معیشت پر درآمدی ایندھن کے اثرات کو محدود کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تھر کا کوئلہ ایکسپورٹ کرنے کے امکانات سے فائدہ اٹھایا جائے ، ساتھ ہی مقامی سطح پر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کیلئے ماحول دوست طریقوں کو بروئے کار لاکر تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے ۔

 ان خیالات کا اظہار ماحولیاتی ماہرین اور انجینئرنگ کے شعبے میں مہارت رکھنے والوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کے تحت سٹیزن فار انوائرمنٹ کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں کیا۔ سیمینار میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات اور چیلنجز کا جائزہ لینے کے ساتھ ماحول پر پڑنے والے اثرات کو بھی زیر غور لایا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ کوئلے کو موثر اور محفوظ طریقے سے بطور ایندھن استعمال کیا جائے تو ماحولیاتی اثرات جو محدود کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان تھر کے کوئلے کو توانائی، پیٹرو کیمیکل، مائع ایندھن کی پیداوار سمیت دیگر شعبوں کیلئے استعمال کرسکتا ہے جس سے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔حکومت نے 100 اسکوائر کلومیٹر رقبے کے 12 بلاکس مخصوص کیے ہیں تاکہ سرمایہ کار ان بلاکس میں سرمایہ کاری کرکے کوئلے کے ذخائر کو بروئے کار لاسکیں، تھر میں کوئلے کے زیر زمین ذخائر کے حجم کا اندازہ 185 ارب ٹن لگایا گیا ہے جس کی مالیت 25 ہزار ارب ڈالر ہے ، یہ قیمتی خزانہ پاکستان کو درپیش توانائی کے سنگین بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔

سیمینار سے خطاب میں پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے ہیڈ آف کمرشل ذیشان لیاقت نے کہا کہ پی آئی بی ٹی مخصوص کارگو ہینڈل کرنے کے لیے تعمیر ہونے والا واحد ٹرمینل ہے جو کوئلے کی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہینڈلنگ کے لیے درکار تمام تر جدید ٹیکنالوجی اور آلات سے لیس ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں