جنگ کے بادل ختم ہونے پر مہنگائی کم ہوجائیگی : وزیر خزانہ

جنگ کے بادل ختم ہونے پر مہنگائی کم ہوجائیگی : وزیر خزانہ

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اگلے مالی سال تک منتقل ہوں گے :اورنگزیب معاشی استحکام کے بعد ترقی کا سفر شروع ، عطاتارڑ، بلال کیانی کے ہمراہ پوسٹ بجٹ کانفرنس

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ مشرق وسطٰی میں جنگ کے بادل ختم ہونے پر مہنگائی کم ہو جائے گی، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اگلے مالی سال تک منتقل ہوں گے ،معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب سفر شروع کردیا ہے ،بجٹ عوام،تنخواہ دار طبقہ کیلئے مراعات وبرآمدات پر مبنی ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا حکومت نے محدود مالی وسائل کے باوجود دستیاب گنجائش کو زیادہ سے زیادہ عوامی فلاح، معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے استعمال کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران تنخواہ دار طبقے خصوصاً کم آمدنی والے ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح تھی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے نچلے درجے کے افراد پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کیلئے اقدامات کیے ہیں تاکہ مہنگائی اور معاشی دبائو سے متاثر ہونے والے طبقات کو سہولت مل سکے ۔ کم آمدنی والے ملازمین کیلئے سب سے نچلے ٹیکس سلیب پر شرح کو 5 فیصد سے کم کرکے صرف ایک فیصد کر دیا گیا ہے ، جبکہ 15 فیصد ٹیکس والے سلیب کی شرح بھی کم کرکے 13 فیصد کر دی گئی ہے ۔بجٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔حکومت مسلسل برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت وزیراعظم کی ہدایت پر برآمد کنندگان کیلئے سپر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔توقع ہے کہ رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔نوجوانوں کو کاروبار اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 262 ارب روپے کے قرضہ پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی قرضوں کا حجم 15 فیصد اضافے کے بعد 2 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ وزیراعظم یوتھ ایگریکلچر لون پروگرام کے تحت 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 125 ارب روپے زراعت کے لیے مخصوص ہیں۔ چھوٹے کسانوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے "زرخیزی سکیم" متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت زمین یا گھر گروی رکھے بغیر قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔زرعی مشینری، کمبائن ہارویسٹرز اور دیگر آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا حکومت کی ہاؤسنگ سکیم کے تحت پہلی مرتبہ ایک عام مزدور اور ڈرائیور کے لیے بھی گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے قرض حاصل کرنا ممکن ہوا ہے ، جو معاشی شمولیت کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ادارے کو آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے ۔

انسانی مداخلت کم کرنے اور صوابدیدی اختیارات کے خاتمے کے لیے کسٹمز نظام کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ریٹیلر سکیم سمیت متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ صرف لیوی کے ڈھانچے میں ضروری ردوبدل کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل کے مقابلے میں مئی کے دوران تیل کی درآمدی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں اور تمام متعلقہ حلقوں کو درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے ۔انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کم شرح سود پر فنانسنگ سہولتوں کی فراہمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 4فیصد شرح پر فنانسنگ کی دستیابی کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا اس بجٹ سے ملک میں روزگار، صنعت اور برآمدات کو بڑا فروغ ملے گا۔اس سال بھی ہم نے مختلف سلیبس یعنی گروپس میں ٹیکس کی شرح کو کم کیا ہے ، جس کے تحت اب ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر صرف پانچ سو روپے ٹیکس ہے جبکہ دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں پر ٹیکس ساڑھے تیرہ ہزار روپے ہے ۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں اتنی بڑی اصلاحات کبھی نہیں ہوئیں، ایف بی آر یعنی ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کا تمام اسٹرکچر اب ہر قسم کی سفارش سے بالکل پاک ہے اور اس میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں