وزیراعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر دعوت

وزیراعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر دعوت

بڑی جماعت کا قائد جیل میں ہو ،ملاقات کی اجازت نہ ہو تو بہتری ناممکن:بیرسٹر گوہر غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی، آئیں بیٹھیں :اچکزئی،قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کا آغاز

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے میثاق معیشت و جمہوریت کیلئے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا پاکستان ہے تو ہم ہیں، ملک کو مستحکم کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے ۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی، آئیں بیٹھیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا بڑی جماعت کا قائد جیل میں ہو اور ملاقات کی اجازت نہ ہو تو سیاسی ماحول میں بہتری ممکن نہیں۔شہباز شریف کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھا دیا ، یہ بلوچستان کے عوام پر کوئی احسان نہیں تھا،اس کیلئے تمام صوبوں نے کردار ادا کیا، سب سے زیادہ حصہ پنجاب نے دیا، چاروں صوبوں کی یکساں ترقی بطور وزیراعظم میری ذمے د اری ہے ۔انہوں نے کہا بلوچستان کے کسانوں کواربوں روپے کے سولرپینلزدئیے گئے۔

ریکوڈک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا معاہدہ پڑھ لیں، ریکوڈک پر بلوچستان کے عوام کے شیئرز روشن مثال ہیں، بلوچستان کے عوام کے شیئرز چھپا ہوا راز نہیں ، سب کے سامنے ہیں۔گوادر سے چمن تک روڈ بن رہی ہے جوہائی و ے کے معیارکے مطابق ہے اور اس شاہراہ کی تعمیر پر300 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برابری اورانصاف کے بغیر تو گھر نہیں چلتا۔انہوں نے کہا اپوزیشن اراکین ہمارے بھائی ہیں ان سے کوئی لڑائی نہیں، کئی بار کہا کہ آئیں میثاق معیشت اورمیثاق جمہوریت کی طرف بڑھیں، آج بھی کہتا ہوں دیر نہیں ہوئی میں بیٹھنے کیلئے تیار ہوں، میں قدم بڑھانے کو تیار ہوں، آپ بھی آگے آئیں۔ میثاق جمہوریت کیلئے میں نے کئی بار کہا ہے ، پاکستان کے لیے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے ، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ صوبے کے معاشی وسائل ان کا حق ہیں، کوئی دورائے اوراختلاف نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا چند دن قبل ہیلی کاپٹرحادثہ میں افواج کے افسران اورجوان شہید ہوئے ، بلوچستان میں دہشت گردی ہورہی ہے ، بلوچستان میں خوارجیوں کوتکنیکی مددفراہم کی جارہی ہے ، سب جانتے ہیں دہشتگردی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے ، گوادرسے چمن تک شاہراہ کی تعمیر میں 300ارب روپے سے زائد خرچ کیا جارہا ہے ، خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی ہورہی ہے ،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے افسران اورجوان شہید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہدا قوم کے کروڑوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں، ہمیں مل کر اپنے شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے ، شہدا کا احترام نہیں کریں گے تودنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی، دہشتگردی کیخلاف غفلت پرقوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بجٹ بحث کاآغاز کرتے ہوئے کہا شہباز شریف کو کہتا ہوں کہ غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے ، آئیں بیٹھیں اور معاملات کو آگے بڑھائیں،کسانوں نے پیاز ٹماٹر آلو جانوروں کے سامنے پھینک دئیے ، فیڈریشن صوبوں کو پیسے دیتی ہے آپ نے صوبوں سے لے لیے ، پشتونوں کے بارے میں یہ تاثر قائم کیا گیا ہے کہ وہ ایک خطرناک قوم ہیں، حالانکہ کسی بھی قوم یا قبیلے کو تعصب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔سابق قبائلی علاقوں (فاٹا)کا انضمام اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اور وہاں محدود آئینی دفعات نافذ تھیں، لیکن بعد ازاں متعدد آئینی آرٹیکلز ایک ساتھ نافذ کر دئیے گئے ، جس کے نتائج آج بھی سامنے آ رہے ہیں۔اپنے ہی لوگوں پر گولیاں چلانا تباہی کا راستہ ہے جبکہ آئین ہر شہری کو احتجاج کا حق دیتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے سرحدی تجارت، چمن سے کراچی تک سامان کی ترسیل اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا تجارتی راستوں کی بندش سے کسانوں اور تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر 8 ہزار 500 روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا شخص غربت کی لکیر سے نیچے شمار ہوتا ہے تو حکومت کو ایسے کروڑوں پاکستانیوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور انصاف میں ہے ۔ بانی پی ٹی آئی پر اتنی سختی نہ کریں، یہ بری بات ہے ، بانی پی ٹی آئی سے کسی کی ملاقات ہو جائے تو کیا ہو گا؟ ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ایک معاہدہ کریں تاکہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، جو انتخابات جیتے گا وہ 5 سال تک حکومت کرے گا۔ اس معاہدے پر میں عمران خان سے دستخط کرائوں گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور جیل میں سہولیات کے معاملے پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ملاقاتوں اور علاج معالجے کی سہولتوں میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔ حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے اور بانی پی ٹی آئی کو ڈاکٹروں تک مکمل رسائی دی جائے ۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ معاشی استحکام ہی ملک کو مضبوط بنا سکتا ہے ، تاہم جب ایک بڑی سیاسی جماعت کا قائد جیل میں ہو اور اس سے ملاقات کی اجازت نہ دی جا رہی ہو تو سیاسی ماحول میں بہتری ممکن نہیں۔اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تو پھر ان کی پارلیمانی موجودگی بھی بے معنی ہو جاتی ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اپنے معاشی اور سیاسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی اور وزیراعظم ماضی میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن بظاہر یہ معاملہ ان کے اختیار سے باہر دکھائی دیتا ہے ۔ بیرسٹر گوہر کے اعتراضات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، اس لیے ان پر قانونی تقاضوں کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے ۔

اس معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بھی بات چیت ہوئی ہے اور حکومتی سطح پر جو سہولیات ممکن ہیں وہ فراہم کی جا رہی ہیں۔اعظم تارڑ نے کہا قومی اسمبلی کے پورے سال کا کام ایک طرف اور بجٹ سیشن کی اہمیت دوسری طرف ہوتی ہے ، اس لیے اس سیشن کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے ۔ میں نے اپوزیشن سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے تمام معاملات اور مطالبات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جائے گا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں سب بتا دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم نے بھی مل بیٹھ کر معاملات آگے بڑھانے کی بات کی اور جمہوری عمل میں آگے بڑھنے کا یہی درست طریقہ ہے ۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہاؤس میں سیکنڈ رو (دوسری لائن) میں وزارتِ خزانہ کی ٹیم موجود ہے جو تمام اراکین کی تقاریر اور اہم نکات کو باقاعدگی سے نوٹ کر رہی ہے ، روزانہ شام کو وزارتِ خزانہ میں ان تمام نکات پر تفصیلی بحث کی جائے گی تاکہ بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام تجاویز حکومت کے سامنے واضح شکل میں موجود ہوں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بجٹ عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا، سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ، ترقی کا انجن رکا ہوا ہے لیکن وزیراعظم کی تقریر میں اس شہر کا ذکر تک نہیں آیا۔پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی نے کہا کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کے مسائل کے حل کیلئے موثر اقدامات نظر نہیں آتے ۔ شہلا رضا نے کہاکہ آئی ایم ایف کی شرائط میں جکڑا ہوا بجٹ پیش کیا گیا ۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہاکہ بجٹ بابوؤں کا کام نہیں منتخب عوام کے نمائندگان کا کام ہے جو لوگ عوام کے ووٹ سے نہیں آئے اور 17 سیٹوں والوں کی حکومت بنوائی جائیگی پھر عوامی بجٹ کبھی نہیں آئے گا۔ ریاض فتیانہ نے کہا بجٹ میں اے آئی کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں۔ شیر علی ساہی نے کہا ہمیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ دیگر طریقوں کے ذریعے غربت سے نمٹنے پر غور کرنا ہوگا۔مسلم لیگ (ن) رکن اسمبلی طاہر اقبال نے کہا کہ تنخواہوں میں سات فیصد سے لوگوں کا کچھ نہیں بنے گا اسے کم ازکم پندرہ فیصد تک کیا جائے ۔جمعیت علمائے اسلام (ف)کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور خان نے کہا کم از کم تنخواہ 50 سے 60 ہزار روپے مقرر کی جانی چاہیے ۔بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی کارروائی آج (اتوار)کوصبح گیارہ بجے تک ملتوی کردی ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں