افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے پھنسے کارگوزکو دوبارہ برآمد کی اجازت

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے پھنسے کارگوزکو دوبارہ برآمد کی اجازت

چمن و کوئٹہ سے کنٹینرز کراچی و گوادر منتقل ہوں گے ، نئے ایس او پیز جاری ہر 15گاڑیوں پر کسٹمز سپاہی تعینات، مکمل ٹریکنگ اورویٹ سلپ لازمی قرار

کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی)حکومتِ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت چمن اور کوئٹہ میں پھنسے ہوئے کارگو کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے دوبارہ برآمد کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے ۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ نئے ایس او پی کے تحت ریورس موومنٹ سخت قواعد و ضوابط کے مطابق کی جائے گی۔ ایف بی آر کے حکم نامے کے مطابق بارڈرز پر رکے ہوئے کنٹینرز کو کراچی اور گوادر منتقل کرنے کیلئے متعلقہ بانڈڈ کیریئرز کو باقاعدہ درخواست جمع کرانا ہوگی ،ہر قافلے میں 15 گاڑیوں تک ایک کسٹمز سپاہی تعینات کیا جائے گا جو دستاویزی تصدیق کا ذمہ دار ہوگا ۔حکام نے بتایا کہ سامان کی منتقلی مکمل ٹریکنگ اور مانیٹرنگ سسٹم کے تحت ہوگی ،متعلقہ ٹریکنگ کمپنیاں اس امر کی تحریری تصدیق کریں گی کہ تمام مانیٹرنگ ڈیوائسز فعال ہیں، ہر بانڈڈ گاڑی کیلئے مینول ٹرانسپورٹ نوٹ جاری کیا جائے گاجس میں گاڑی، ڈرائیور، کنٹینر، سیل نمبر اور منزل کی مکمل تفصیلات درج ہوں گی۔

ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ منتقلی سے قبل تمام کنٹینرز کو مکمل جانچ پڑتال، ری اسکیننگ اور دوبارہ وزن کے عمل سے گزارا جائے گا اور اسکے لئے این ایل سی ٹرمینل پر اسکیننگ اور ویٹ سلپ لازمی قرار دی گئی جبکہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داری بانڈڈکیریئرز اور ٹرانسپورٹرز پر عائد ہوگی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دنیا نیوز کو صدر پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس جنید اسماعیل نے بتایا کہ چمن اور کوئٹہ میں موجود ٹرانزٹ ٹریڈ سامان کی مالیت کروڑوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔انکا کہناہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت ترکمانستان، ملائیشیا، ازبکستان اور ویتنام کے کنٹینرز بھی اس ٹریڈ کا حصہ ہیں جو طویل عرصے سے رکے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف بندرگاہوں اور سرحدی مقامات پر دباؤ کم کرے گا بلکہ علاقائی تجارت کے تسلسل اور بین الاقوامی اعتماد کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں