اسٹاک ایکسچینج: سال کی بدترین مندی، سرمایہ کاروں کے 7کھرب13ارب ڈوب گئے
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ ، بلو چپ کمپنیوں کے مایوس کن مالی نتائج،سرمایہ کاری کا مسلسل انخلاء بڑی وجہ 80فیصد حصص کی قیمتیں کم،32کمپنیوں کے بھاؤمیں اضافہ، 384کا کم ، 100انڈیکس 172170پوائنٹس پر بند
کراچی(بزنس رپورٹر)سٹاک مارکیٹ میں رواں سال کی بدترین مندی کے سبب 80فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 7کھرب 13ارب روپے سے زائدڈوب گئے ،تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں
پر دباؤ ، بلو چپ کمپنیوں کے مایوس کن مالی نتائج اور مقامی و غیر مقامی سرمایہ کاری کا شیئرز مارکیٹ سے مسلسل انخلاء اسٹاک ایکسچینج کو 2026 کی سب سے بڑی بدترین مندی میں مبتلا کرگیا،دوران ٹریڈنگ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 7 ہزار سے زائد پوائنٹس شدید گراوٹ کا شکار ہوا اور یکے بعد دیگرے انڈیکس کی 1لاکھ 78ہزار،1لاکھ 77ہزار، 1لاکھ 76 ہزار، 1لاکھ 75ہزار، 1لاکھ 74ہزار اور1لاکھ 73ہزار پوائنٹس کی 6 سطحیں گرگئیں ۔رواں سال کی بدترین مندی کے سبب 80فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 7کھرب 13ارب روپے سے زائدڈوب گئے ۔کاروبار کا آغاز 426پوائنٹس کی تیزی سے ہوا ،لیکن عالمی معاشی دباؤ اور امن و امان کی خراب صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کو آغاز کے بعد مسلسل مندی سے شدید مندی اور شدید مندی سے بدترین مندی میں مبتلا کئے رکھا۔
دوران ٹریڈنگ انڈیکس 7205پوائنٹس کی بدترین مندی سے انڈیکس کی 1لاکھ 72ہزار پوائنٹس کی سطح بھی گرگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں قدرے کمی واقع ہوئی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6682اعشاریہ 81 پوائنٹس کی کمی سے 172170پوائنٹس پر بند ہوا، اسی طرح کے ایس ای 30انڈیکس 2017پوائنٹس کی کمی سے 52658پوائنٹس اور آل شیئرز انڈیکس 3859 پوائنٹس کی کمی سے 103476پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم 22فیصد زائد رہا۔گزشتہ روز 54کروڑ 29لاکھ 79ہزار 519 حصص کے سودے ہوئے ۔مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص کاکاروبار ہوا، جس میں سے 32 کمپنیوں کے بھاؤمیں اضافہ، 384 میں کمی اور 67 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔