امریکا کی ایران کیخلاف فوجی تیاریوں میں تیزی،کشیدگی بڑھ گئی
واشنگٹن،تہران(نیو ز ایجنسیاں )امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت وارننگز کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے ،
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے خطے میں اپنی عسکری تیاریوں میں تیزی سے اضافہ کر دیا ہے ۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے خلیجی پانیوں میں طیارہ بردار بحری بیڑے ، جدید لڑاکا طیارے اور میزائل دفاعی نظام تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی فوجی دستے بھی الرٹ رکھے ہیں۔امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے ،امریکی میڈیا نے بتایا کہ فوجی اہلکار اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں ۔ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ کوئی ملک ایران کو جوہری افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا،ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایجنسی کے قواعد کے مطابق جاری ہے ،پُرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے ۔ تہران نے امریکی بیانات کو دباؤ کی سیاست قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور جوہری حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ایرانی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ادھر اسرائیل نے بھی ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا
،شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے ۔خطے میں عرب ممالک اور خلیجی ریاستیں کوئی بھی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، سب سمجھتے ہیں کہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے ۔ یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی تصادم کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے ، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے ۔سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں جانب بیانات کی سختی نے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ آئندہ چند دن خطے کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن سمجھے جا رہے ہیں، جب کہ عالمی برادری نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز کیے ہوئے ہے ۔پولینڈ نے اپنے تمام شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا حکم دیا ہے ، وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ شدید تنازع کا خطرہ حقیقی ہے ،جلد انخلا نہ کیا تو شہریوں کی محفوظ واپسی ممکن نہیں ہو سکے گی ۔امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیا۔ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 1اعشاریہ 7 ڈالر اضافے کے بعد 66اعشاریہ17ڈالر کا ہوگیا، جبکہ برینٹ کروڈ آئل 1اعشاریہ 6 ڈالر اضافے کے بعد 71اعشاریہ45ڈالر فی بیرل ہوگیا ۔ ایران میں جنوری 2025 سے زیر حراست برطانوی جوڑے لنڈسے اور کریگ فورمین کو جاسوسی کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ، اہلخانہ کے مطابق عدالتی سماعت صرف تین گھنٹے جاری رہی اور انہیں اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے سزا کو ناقابل قبول اور غیر منصفانہ قرار دیا۔