پام آئل درآمدات کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

پام آئل درآمدات کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے

کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی)ملکی معاشی تاریخ میں پہلی بار پام آئل کی درآمد نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ۔

مالی سال 2026 کے ابتدائی7ماہ کے دوران پام آئل کی درآمدات کا حجم بڑھ کر 2 ارب 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا جو کسی بھی مالی سال کے اسی عرصے میں سب سے زیادہ سطح ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مجموعی غذائی درآمدی بل بھی بڑھ کر 4 ارب 93 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جس میں تقریباً نصف حصہ صرف پام آئل کی درآمد پر مشتمل ہے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق خوردنی تیل کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ یاد رہے کہ مالی سال 2023 کے ابتدائی 7ماہ میں خوردنی تیل کی درآمد تقریباً 2 ارب ڈالر رہی تھی، تاہم رواں مالی سال اس میں نمایاں چھلانگ ریکارڈ کیا گیا۔تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پام آئل کی اضافی درآمد کئی برسوں سے جاری ہے ۔چیئرمین گروسرزاینڈہول سیلرز عبدالرؤف ابراہیم کے مطابق درآمد کنندگان سالانہ 8 سے 10 لاکھ ٹن تک پام آئل ضرورت سے زائد منگواتے ہیں جس سے نہ صرف مقامی مارکیٹ میں سپلائی کا عدم توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ درآمدی بل اور تجارتی خسارے میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں خوردنی تیل کی سالانہ کھپت تقریباً 36 لاکھ ٹن ہے ،اس کے باوجود درآمدات کا حجم اس سے کہیں زیادہ رکھا جا رہا ہے ۔ عبدالرؤف ابراہیم نے سوال اٹھایا کہ پام آئل کی درآمد کے حجم کو متوازن رکھنے کے لیے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ خوراک کی جانب سے کوئی واضح مکینزم سامنے نہیں آیا جسکے باعث درآمدی پالیسی میں بے ترتیبی پائی جاتی ہے ۔معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر درآمدات کو حقیقی طلب سے ہم آہنگ نہ کیا گیا تو نہ صرف تجارتی خسارہ بڑھے گا بلکہ روپے پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بھی برقرار رہیں گے ۔ دوسری جانب ایف بی آر سمیت تمام متعلقہ اداروں کو پام آئل درآمد کنندگان پرسختی سے جانچ پڑتال کرنی ہوگی تاکہ پام آئل کی اضافی درآمد کو کم کرکے انکی معاشی ہیر پھیر کو روکا جاسکے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں