ہماری ریسرچ نے کسانوں کو مایوس کیا ،سیکرٹری زراعت پنجاب
کراچی(بزنس ڈیسک)فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی اور محکمہ زراعت کے پنجاب کے اشتراک سے نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں منعقدہ کپاس کے اگیتی کاشت کے سلسلہ میں سرسبز کسان کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہ ہماری ریسرچ کی کمزوری ہے ،ہماری ریسرچ نے کسانوں کو مایوس کیا ہے ۔ محکمہ زراعت کی بھی کمزوری ہے ۔
بیماریوں کیڑوں کے حملے کی روک تھام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئے بیج متعارف نہیں کرائے گئے ۔ ہم کپاس کی بحالی اور پیداوار میں اضافہ کیلئے بھرپور اقدام کر رہے ہیں۔ کمشنر ملتان عامر کریم نے کہا کہ ہماری معیثت زراعت اور کپاس کے گرد گھومتی ہے ۔ کاشتکاروں معیاری زرعی مداخل مقررہ نرخوں پر فراہمی کے لیے تمام اقدام کیے جا رہے ہیں۔ وائس چانسلر نواز شریف یونیورسٹی پرو فیسر ڈاکٹر راو آصف علی نے کہا کہ فاطمہ گروپ زراعت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے ۔ انہوں کہا کہ کپاس کی ایسی اقسام تیار کی جا رہی ہیں جو ایک ہی وقت میں چنائی کے لیے تیار ہو جائیں اور پھر مشین کی مدد سے چنائی کی جائے ۔ آئندہ دنوں میں مشینی چنائی ہی کارگر ثابت ہو گی۔ فاطمہ فرٹیلائزر کے شعبہ ٹیکنیکل فارم ایڈوائزری منیجر کے سربراہ ڈاکٹر سعید اقبال نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور موسمی کپاس پر بیماریوں اور کیڑوں کے حملے کے پیش نظر کپاس کی اگیتی کاشت فروغ پا رہی ہے ۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہے جو کہ سرسبز کھادوں کے استعمال سے ممکن ہے ۔ ہماری زمینوں کی اساسی ساخت کی وجہ سے سرسبز کی کھادیں ہی موزوں ہیں۔ کنونشن میں سیکڑوں کی تعداد میں کاشتکاروں اور زراعت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی کنونشن میں فاطمہ فرٹیلائزر کے ڈویلپمنٹ منیجر سنٹرل زون عثمان غنی، سلمان رضا، ٹیکنیکل سروسز آفیسر اسفند بھی شریک تھے ۔ ڈاکٹر سعید اقبال نے کہا کہ بھرپور پیداوار کے لیے درست وقت، درست مقدار، درست جگہ پر درست کھادوں کا انتخاب لازمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار کپاس کی بوائی کے وقت دو بوری سرسبز نائٹرو فاس، سوا بوری ایم او پی یا ڈیڑہ بوری ایس او پی استعمال کریں۔