ڈیڈیکیٹڈ ڈسٹری بیوشن کاغیر مجاز استعمال صنعتکاروں سے ناانصافی
صنعتکاروں کو قانونی اور مالی مشکلات کا سامنا، نیپرا مداخلت کرے ، ہوزری یونین کمپنی کی فروخت یابندش پرلائنوں کی منتقلی سے انکار کردیا جاتا، رہنماؤں کا الزام
کراچی(کامرس رپورٹر )پاکستان ہوزری مینو فیکچرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے نجی ملکیتی ڈیڈیکیٹڈ ڈسٹری بیوشن سسٹمز کے مبینہ غیر مجاز استعمال اور انہیں کامن ڈسٹری بیوشن سسٹم میں تبدیل کرنے کے موجودہ طریقہ کار کو صنعتکاروں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے (نیپرا) سے فوری مداخلت اور قواعد میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی کے مختلف صنعتی علاقوں میں 1970 اور 1980 کی دہائی میں قائم ہونے والی متعدد فیکٹریوں نے اپنی نجی زمین پر اپنی لاگت سے 11 کے وی سب اسٹیشنز اور ڈیڈیکیٹڈ ڈسٹری بیوشن سسٹمز نصب کیے تھے ، جن کا مقصد صرف متعلقہ صنعتوں کو بجلی کی فراہمی تھا تاہم بعد ازاں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے ان نجی نظاموں سے قریبی صارفین کو کنکشن فراہم کرنا شروع کردیئے ، جبکہ مالکان سے نہ تو این او سی حاصل کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کا معاوضہ ادا کیا گیاپی ایچ ایم اے کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے باعث نجی ملکیت پر قائم انفرا اسٹرکچر عملی طور پر پبلک استعمال میں آچکا ہے ، جس سے صنعتکاروں کو قانونی اور مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے مطابق جب کوئی فیکٹری بند، فروخت یا ری ڈیولپمنٹ کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی قائم کردہ لائنوں کی منتقلی سے انکار کردیتی ہیں یا اس کی لاگت صنعتکاروں پر ڈال دیتی ہیں، جس سے نجی سرمایہ کار اپنی ہی زمین کے استعمال میں رکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل اور ایس آر او 448(I)/2022 کے تحت ڈیڈیکیٹڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم صرف اصل صارف کے استعمال کیلئے مختص ہوتا ہے اور کسی تیسرے فریق کو کنکشن دینے کیلئے مالک سے تحریری اجازت ضروری ہے۔