توانائی بحران،علاقائی کشیدگی سے کاروباری اعتماد میں کمی

توانائی بحران،علاقائی کشیدگی سے کاروباری اعتماد میں کمی

57فیصدکاروباری اداروں کا مستقبل کے بارے میں منفی خدشات کا اظہار اسٹرکچرل چیلنجزکا نجی شعبے پر دباؤ، مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ قرار ، سروے

کراچی(بزنس ڈیسک)گیلپ پاکستان کے بزنس کانفیڈنس سروے کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کے نجی شعبے کے کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجوہات میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور علاقائی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے اثرات ہیں۔ گیلپ پاکستان کے 17ویں سہ ماہی بزنس کنفیڈنس سروے کا انعقاد اپریل 2026 میں گیا جو ملک بھر کے 510 کاروباری اداروں کی آراء پر مبنی ہے ۔ سروے کے مطابق موجودہ کاروباری صورتحال، مستقبل کے امکانات اور ملکی معاشی سمت سے متعلق تمام اہم اشاریے منفی ہیں۔ صرف 41 فیصد کاروباری اداروں نے اپنے موجودہ آپریشنز کواچھایابہت اچھاقرار دیاجو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے جبکہ مجموعی مثبت رجحان میں 27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

کاروبارے ادارے مستقبل کے بارے میں زیادہ مایوسی کا شکارہیں اور 57فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں منفی خدشات کا اظہار کیا جبکہ صرف 43فیصد نے مستقبل میں حالات کے بہتر ہونے کی امید کا اظہار کیا ہے ۔ مستقبل کے خالص کاروباری اعتماد کا اسکور گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 25فیصد کم ہوگیا  ۔ کاروباری جذبات واضح طورپر منفی زون میں داخل ہوچکے ہیں جو معاشی رجحان کے حوالے سے کاروباری طبقے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی ہیں۔ اسٹرکچرل چیلنجز نجی شعبے پربدستور دباؤ ڈال رہے ہیں۔ 37فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قراردیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں