مجتبیٰ خامنہ ای نے فیصلہ سازی کے اختیارات جنرلز کو دیدئیے

مجتبیٰ خامنہ ای نے فیصلہ سازی کے اختیارات جنرلز کو دیدئیے

زخمی لیڈرمصنوعی ٹانگ کے منتظر،بولنے میں دشواری،ذہنی طور پر مکمل فعال پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ز براہ راست نہیں ملتے ،صدر خود علاج میں شامل

واشنگٹن(اے ایف پی)ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہونے کے باوجود ذہنی طور پر مکمل طور پر ہوشیار اور فعال ہیں تاہم انہوں نے فی الوقت فیصلہ سازی کے اختیارات پاسدارانِ انقلاب کے جنرلوں کوسونپ دئیے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے بعد قیادت سنبھالنے کے بعد سے عوامی طور پر سامنے نہیں آئے اور صرف تحریری بیانات جاری کیے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی صحت اور حتیٰ کہ ان کی بقا کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔اخبار کے مطابق اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوئے ، تاہم وہ ذہنی طور پر ہوشیار اور امور میں شامل ہیں۔رپورٹ میں ایرانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان کی ایک ٹانگ پر تین بار آپریشن ہو چکا ہے اور وہ مصنوعی ٹانگ کے منتظر ہیں۔

ایک ہاتھ کی سرجری بھی ہوئی ہے اور وہ آہستہ آہستہ اس کی فعالیت بحال کر رہے ہیں۔ ان کا چہرہ اور ہونٹ شدید جھلس گئے ہیں جس کی وجہ سے بولنے میں دشواری ہوتی ہے ، اور مستقبل میں انہیں پلاسٹک سرجری کی ضرورت پڑے گی۔سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان تک رسائی انتہائی محدود ہے اور وہ اس وقت خفیہ مقام پر موجود ہیں، جبکہ صرف ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات ہی باہر بھیجے جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان سے براہ راست ملاقات نہیں کرتے ، تاہم ایران کے صدر مسعود پزشکیان، جو خود دل کے سرجن بھی ہیں، ان کے علاج میں شامل رہے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے وہ جنرلز جو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کو "نظام کے وجود کے لیے خطرہ" سمجھتے تھے ، اب صورتحال کو قابو میں تصور کر رہے ہیں۔یہی فوجی قیادت آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سمیت ایران کی مجموعی عسکری حکمت عملی کی بھی نگرانی کر رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں