مچھلی برآمدات سے تجارتی خسارہ کم ہوسکتا ہے ،عتیق الرحمان
80فیصد فش اسٹاک ختم، روایتی ماہی گیری دباؤ میں، متبادل حکمت عملی ناگزیر چین، خلیجی و ایشیائی منڈیوں میں مواقع، سرمایہ کاری بڑھائی جائے ،تجزیہ کار
کراچی(رپورٹ : حمزہ گیلانی)آبی تجزیہ کار عتیق الرحمان نے زور دیا ہے کہ پاکستان مچھلی کی برآمدات کو فروغ دے کر اپنے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی لاسکتا ہے ، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور مشرقِ بعید میں خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے حکومت، بینکوں اور نجی شعبے پر زور دیا ہے کہ وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائیں۔انکے مطابق ایک آزاد ماہر جائزے کے مطابق پاکستان کو عالمی منڈی میں ایک ذمہ دار برآمد کنندہ کے طور پر ابھرنے کیلئے گہرے سمندر میں ماہی گیری اور آبی زراعت پر فوری توجہ دینا ہوگی۔
دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عتیق الرحمان نے بتایا کہ ایکوا سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کے سمندری علاقوں میں 80 فیصد سے زائد فش اسٹاک حد سے زیادہ شکار کے باعث ختم ہو چکا ہے جس کے باعث روایتی ماہی گیری شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ سینئر آبی ماہر کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے گہرے سمندر میں ماہی گیری کو فروغ دینا ناگزیر ہے ۔ انہوں نے آبی زراعت کو اس شعبے کی بحالی اور ترقی کیلئے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مچھلی اور جھینگے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ سمندری وسائل پر دباؤ بھی کم ہوگا ۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب اس شعبے میں سبقت لے چکا ہے جہاں مچھلی کی پیداوار اور برآمدات کے ساتھ مقامی ضروریات بھی پوری کی جا رہی ہیں جبکہ سندھ میں بھی زمین کی نمکیات اور زیر زمین پانی کی دستیابی کے باعث اس شعبے میں وسیع امکانات موجود ہیں۔
ایکوا رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سرمایہ کاروں اورکسانوں میں ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ میٹھے پانی کی مچھلیوں کی فارمنگ کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ ان کی عالمی منڈی میں مسابقتی قیمت کم ہونے کے باعث برآمدی منافع محدود ہوتا ہے ۔انہوں نے تجویز دی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور وفاق سمندری پانی کی مچھلیوں کی فارمنگ پر توجہ دیں ۔سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ عالمی اعداد و شمار نے واضح کردیا ہے کہ چین دنیا میں مچھلی کاسب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور پاکستان سے بھی بڑی مقدار میں درآمدات میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور خلیجی ممالک بھی اہم منڈیاں ہیں۔ یورپی یونین اور جاپان نسبتاً چھوٹی مگر زیادہ قدر والی مارکیٹس ہیں، جبکہ ایشیا مجموعی برآمدات کا 59 فیصد حصہ جذب کرتاہے۔