فائرنگ میں ٹرمپ محفوظ،واقعے کا ایران جنگ سے تعلق نہیں:امریکی صدر
ٹرمپ کے صحافیوں کیساتھ عشائیہ میں فائرنگ،6گولیاں چلیں، کئی شرکامیزوں کے نیچے چھپ گئے ،حملہ آور گرفتار،سیکرٹ سروس اہلکار گولی لگنے پر بلٹ پروف جیکٹ کے باعث محفوظ رہا لگتاہے ہدف میں تھا،حملہ آور ذہنی بیمارتھا،ایران مذاکرات کیلئے فون کرلے :ٹرمپ ، تصویر اور ویڈیو شیئر کر دی، آصف زرداری اورشہبازشریف سمیت عالمی رہنماؤں کی جانب سے واقعہ کی مذمت
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس سے تقریب میں افراتفری مچ گئی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام محفوظ رہے ،جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیہ جاری تھا، اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی اور6گولیاں چلیں ،جس پر شرکا میں بھگدڑ مچ گئی اور متعدد افراد میزوں کے نیچے چھپ گئے ۔ سیکرٹ سروس اہلکار فوری حرکت میں آئے اور صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر منتقل کر دیا۔حکام کے مطابق حملہ آور نے سکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب فائرنگ کی اور ایک سیکرٹ سروس اہلکار کو نشانہ بنایا تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے باعث اہلکار محفوظ رہا، واقعہ کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے ملزم کو قابو کر کے حراست میں لے لیا، ملزم کے قبضے سے شاٹ گن، پستول ،چھریاں اور دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم ہوٹل میں بطور مہمان مقیم تھا اور اس نے بال روم کے قریب ایک کمرے میں ہتھیار رکھے ہوئے تھے ۔ ہوٹل کو خالی کرا لیا گیا جبکہ سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔امریکی حکام کے مطابق حملہ آور نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ اس کا ہدف صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان تھے ۔
تاہم واقعہ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ انفرادی کارروائی تھی یا کسی بڑی سازش کا حصہ ہے ۔صدر ٹرمپ نے واقعہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی تاہم سکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے بڑا نقصان ہونے سے بچا لیااور وہ محفوظ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے کام کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے ، فائرنگ مجھے ایران کے خلاف جنگ لڑنے اور جیتنے سے نہیں روک سکے گی اگرچہ میرے خیال میں اس فائرنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں تاہم حتمی بات تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہتری لانا کئی لوگوں کو پسندنہیں،تقریبات منسوخ نہیں کروں گا ،اس تقریب کو 30 دن کے اندر دوبارہ شانداراندازمیں منعقد کیا جائے گا۔بعدازاں سوشل میڈیا پیغا م میں ٹرمپ نے کہاکہ اگر وائٹ ہاؤس میں بڑے محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا،گزشتہ 150برس کے دوران ہر صدر نے وائٹ ہاؤس کے اندر ایک بڑا، محفوظ اور سکیور بال روم تعمیر کئے جانے پر زور دیا ہے ،اس کی تعمیر جتنی جلدی ہو سکے مکمل ہونی چاہئے ، محفوظ بال روم کی تعمیر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ مضحکہ خیز ہے ،جو ایک خاتون نے اپنے کتے کو ٹہلاتے ہوئے دائر کیا ، جن کو ایسا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے اور اس مقدمے کو فوری ختم کردینا چاہئے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ حملہ آور کو ذہنی طور پر بیمار قرار دیا اور کہا کہ مبینہ حملہ آور کے دل میں کافی عرصے سے شدید نفرت موجود تھی، حملہ آور کے گھر والے جانتے تھے کہ اسے مشکلات درپیش تھیں۔ ٹرمپ نے مبینہ شوٹر کی تصویر اور بعدازاں ویڈیو بھی شیئر کر دی۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرو یو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم کامیاب ہوں گے ، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے ، کیونکہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایران کے کچھ مذاکرات کار سمجھدار ہیں کچھ نہیں، امید ہے ایران سمجھداری کا مظاہرہ کرے گا، ہم ایران کی نیوکلیئر ڈسٹ کو مذاکرات کا حصہ بنائیں گے ۔ ایران سے متعلق صورتحال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا ۔امریکی صدر کا کہناتھاکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بہترین اورہمارے لئے قابل احترام ہیں، پاک بھارت جنگ کے دوران 11طیارے گرائے گئے ، دونوں ملکوں کے درمیان جنگ رکوانا میرے لئے اعزاز کی بات ہے ۔
امریکی اٹارنی جنرل اور ایف بی آئی حکام نے بتایا کہ ملزم کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس پر وفاقی اہلکار پر حملہ اور اقدامِ قتل سمیت سنگین الزامات عائد کئے جائیں گے ۔حکام کے مطابق واقعہ کے بعد واشنگٹن میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ ہوٹل اور اطراف کے علاقے کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے ۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ جو ایک تفریحی شام سمجھی جا رہی تھی اسے ایک بیمار ذہن والے شخص نے ہائی جیک کر لیا، اس نے صدر کو قتل کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے زیادہ سے زیادہ اعلیٰ عہدیداروں کو مارنے کی کوشش کی۔ایکس پر ایک بیان میں لیویٹ کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے ساتھ بیک سٹیج پر تھیں جب ہمیں سیکرٹ سروس کی طرف سے فوری طور پر وہاں سے لے جایا گیا، صدر اس وقت بالکل بے خوف تھے ۔اُن کا کہنا تھا کہ اس سیاسی تشدد کوختم کرنے کی ضرورت ہے اور ہم سب کو محفوظ رکھنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ۔ ادھر دنیا بھر کے رہنماؤں نے واقعہ پر مذمت کا اظہار کیا۔ صدرمملکت آصف علی زرداری ،وزیراعظم شہبازشریف ،نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈار ،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق سمیت عالمی رہنماؤں نے فائرنگ کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ اور دیگر شرکا کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
عالمی رہنماؤں نے اس واقعے کو جمہوریت اور آزاد معاشروں پر حملہ قرار دیتے ہوئے سیاسی تشدد کے خاتمے پر زور دیا ہے ۔صدر آصف زرداری نے کہاکہ واقعہ دہشت گردی کی گھناؤنی شکل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔شہبازشریف نے کہا عشایئے میں فائرنگ سے صدمہ ہوا، خوشی ہوئی کہ ٹرمپ اور میلانیا محفوظ ہیں۔میئرنیویارک ظہران ممدانی نے کہا کہ سیاسی تشدد مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر حملے میں صدر ٹرمپ اور مہمان محفوظ ہیں۔ آسٹریلوی وزیر اعظم کا بھی کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول سمیت وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے تمام شرکا محفوظ ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ٹیلیفون کرکے ٹرمپ سے فائرنگ کے واقعے پر بات کی اور اُن کے اور خاتون اول کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ترجمان ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی بحالی کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔سٹارمر نے آبنائے ہرمز کی بحالی کیلئے فرانس کے صدر میکرون کے ساتھ اپنے مشترکہ اقدام سے بھی آگاہ کیا۔