پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ،80لاکھ نوجوان منشیات کا شکار:حافظ نعیم
اربوں کا ٹیکس لینے والی حکومت کے پاس عوامی ریلیف کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ، انکی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان غریب سے 107 روپے لیوی وصول ،ریلیف صرف اشرافیہ کو ملتا ، فرسودہ نظام بدلنے کاوقت آگیا:سرگودھا میں خطاب
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب حکومت کی گڈ گورننس صرف جھوٹے اشتہارات تک محدود ہے ، ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر دھکے کھانے پر مجبور ہیں، اربوں روپے کا ٹیکس لینے والی حکومت کے پاس عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ،ہمارے ملک میں غریب سے لیوی وصول کی جاتی ہے لیکن اشرافیہ کو کوئی نہیں پوچھتا،سرگودھا میں الخدمت فاؤنڈیشن کے "بنو قابل" پروگرام کی گریجویشن تقریب سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ عوام کے ٹیکسوں کے اربوں روپے فوٹو شوٹ پر اڑائے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں تعلیمی ادارے اور کامرس سکولز ختم کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے پاس نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دینے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ، خواتین سمیت 80 لاکھ نوجوان منشیات کا شکار ہو چکے ہیں، جو ان کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان ہے ، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول پر عائد لیوی ٹیکس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہاں غریب سے 107 روپے لیوی وصول کی جاتی ہے لیکن ریلیف صرف اشرافیہ کو ملتا ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کے ارب پتی لوگ بینکوں سے قرضے معاف کرواتے ہیں جبکہ عام آدمی کا بجلی کا بل گھر کے کرائے سے تجاوز کر چکا ہے ،پاکستان میں اب تک امیر غریب کو ایک جیسی تعلیم، انصاف، امن نہیں مل سکا، عوام کا درد وہی سمجھ سکتا ہے جو خود مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہو یہ اشرافیہ کسی صورت بھی ریلیف فراہم نہیں کر سکتا، ،اب وقت آ گیا ہے کہ اس فرسودہ نظام کو بدلا جائے ۔