سفارتی رابطوں میں تیزی:عباس عراقچی کی دوبارہ اسلام آباد آمد،فیلڈ مارشل سے اہم ملاقات

سفارتی  رابطوں میں تیزی:عباس عراقچی کی دوبارہ اسلام آباد آمد،فیلڈ مارشل سے اہم ملاقات

24گھنٹوں میں دوسری ملاقات کے دوران اہم تجاویز ، نقطہ نظر کا تبادلہ خیال ،عباس عراقچی نے امریکا کیلئے ایران کی تحریری شرائط پیش کیں ،روس روانہ ،پیوٹن سے ملاقات کرینگے ایرانی وزیرخارجہ کی سلطان عمان ہیثم سے ملاقات ،سعودی ،ترک اورمصری ہم منصبوں سے رابطے ،ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی امریکی مذاکرات کاروں سے ٹیلیفونک گفتگو

اسلام آباد ، مسقط ، تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی عمان کے دارالحکومت مسقط کے دورے کے بعد ایک بار پھر مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران امریکا کشیدگی کے خاتمے ، جنگ بندی اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم تجاویز اور نقطۂ نظر کا تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان آمد پر ان کا استقبال وفاقی وزیرداخلہ  محسن نقوی اور ایرانی سفیر نے کیا ۔ذرائع کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت سے مسلسل رابطے رکھے اور خطے میں جاری کشیدگی، جنگ بندی کی پیش رفت اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل وہ جمعہ کی شب بھی اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کی تھیں، بعد ازاں وہ مسقط روانہ ہوئے اور گزشتہ روز دوبارہ اسلام آباد آئے ۔ ایرانی خبرایجنسی کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے دورہ اسلام آباد کے دوران امریکا کیلئے ایران کی تحریری شرائط پاکستان کو پیش کردیں۔ پیش کردہ تحریری شرائط میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی سرخ لکیریں واضح طور پر بیان کی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے نئے ضابطے ، ناکہ بندی کے خاتمے ، معاوضے اور عدم جارحیت پربات کی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد مشاورت کا تسلسل ہے ۔مسقط میں قیام کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال، امریکاایران کشیدگی، آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمانی قیادت نے تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ ایران نے خطے میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے اور مشترکہ سکیورٹی نظام کے قیام پر اپنا موقف دہرایا۔

دریں اثنا عباس عراقچی نے پاکستان آمد سے قبل سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کی، جس میں مشرق وسطٰی کی تازہ صورتحال، جنگ بندی سے متعلق پیش رفت اور کشیدگی میں کمی کیلئے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کو ایران کے مؤقف اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ترکی کے وزیرخارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیرخارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی رابطے کئے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے جاری سفارتی اقدامات پر مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے ۔ماسکو میں ایرانی سفیر کے مطابق عباس عراقچی اپنے دورہ روس کے دوران صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے ، جن میں ایران امریکا کشیدگی، جنگ بندی اور جاری مذاکراتی عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔یاد رہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور پاکستان بھی اس حوالے سے ثالثی کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے ۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں اور اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق ترک وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کے مطابق ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں انہوں نے ایران اور امریکاکے درمیان ہونے والی بات چیت کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔دو الگ الگ فون کالز میں فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی اور اپنے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار کے ساتھ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ترک خبر رساں ادارے انادولو نے بتایا کہ ان رابطوں میں ایران اور امریکی فریقوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بات ہوئی ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ دورہ پاکستان کے بعد ماسکو روانہ ہو گئے ، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن سے سے اہم ملاقات کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں