ایکسچینج کمپنیوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری کا درجہ دینے کا مطالبہ

 ایکسچینج کمپنیوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری کا درجہ دینے کا مطالبہ

فارن ایکسچینج لین دین پر ٹیکس ختم،راست سسٹم سے منسلک کیا جائے ،ظفر پراچہ کرپٹو کاروبار کی اجازت دی جائے ، صدر ای کیپ کی سینیٹ کمیٹی کو بجٹ تجاویز

کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای کیپ)نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ چیئرمین کے ساتھ اہم ملاقات میں آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے متعدد اہم تجاویز پیش کردیں۔ صدر ای کیپ ظفر پراچہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ایکسچینج کمپنیوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری کا درجہ دے تاکہ ملک میں قانونی ذرائع سے ترسیلات زر اور فارن ایکسچینج کے بہاؤ کو مزید فروغ دیا جاسکے ۔ظفر پراچہ نے کہا کہ فارن ایکسچینج لین دین پر عائد سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، ایکسچینج کمپنیاں دراصل بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات اور فارن کرنسی کے قانونی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے انہیں خصوصی مراعات دی جانی چاہئیں۔ای کیپ نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کو ای کامرس ٹیکس کے سیکشن اے 6 سے مستثنٰی قرار دیا جائے ۔ظفر پراچہ کے مطابق موجودہ ٹیکس ڈھانچہ ایکسچینج کمپنیوں کے کاروباری ماڈل سے مطابقت نہیں رکھتا جس کے باعث صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے ۔صدر ای کیپ نے سینیٹ کمیٹی کو تجویز دی کہ ملک بھر کی تمام ایکسچینج کمپنیوں کو اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام راست سے منسلک کیا جائے ۔ ملاقات میں کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثہ جات سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک پر بھی گفتگو ہوئی۔ ای کیپ نے مطالبہ کیا کہ لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثہ جات کے کاروبار کی اجازت دی جائے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں