روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کا رجحان
مزید ٹیکسٹائل ملز، جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہو سکتی ہیں ، کاٹن جنرز فورم
کراچی(این این آئی)وفاقی بجٹ میں کاٹن جننگ سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کم نہ کرنے کے باعث پورے کاٹن سیکٹر اور کاشت کاروں میں اضطرابی کیفیت برقرار ہے ، روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کا رحجان غالب ہے جبکہ مزید ٹیکسٹائل ملوں، جننگ فیکٹریوں کے غیر فعال ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ وفاقی بجٹ سے قبل بھی اپٹما اور کاٹن جنرز کے نمائندوں نے متعلقہ وزارتوں کے ذمہ داروں کے ساتھ مذاکرات میں کاٹن جننگ سیکٹر پر عائد 86فیصد سیلزٹیکس میں مطلوبہ کمی کے مطالبات پیش کئے تھے ،وفاقی وزرا و دیگر متعلقہ حکام نے پی سی جی اے کے نمائندوں کویقین دہانی کرائی تھی کہ کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر عائد 18، 18فیصد سیلز ٹیکس ختم کر کے روئی پر عائد 18فیصد سیلز ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بعد از بجٹ 30 مختلف نوعیت کی ترامیم کی گئیں لیکن کاٹن سیکٹر کو کوئی ریلیف نہ دیا گیا جس سے ملک بھر میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں زبردست مندی کا رحجان ہے۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی فی من روئی کی سپاٹ قیمت 3500روپے کی کمی سے 18ہزار روپے ، پنجاب میں روئی کی قیمت 5ہزار روپے فی من کی کمی سے 17800روپے روپے ہوگئی جبکہ سندھ میں 4200روپے کی کمی سے 17300روپے کی سطح پر آگئی ہے ، اسی طرح کاٹن سیڈ کی فی من قیمت 4800روپے سے گھٹ کر 3400 روپے اور آئل کیک کی فی من قیمت 5200روپے سے گھٹ کر 3500روپے کی سطح پر آگئی ہے۔