پی ایچ ڈی ای سی کے سرٹیفکیشن پروگرام سے متعلق آگاہی سیشن

 پی ایچ ڈی ای سی کے سرٹیفکیشن پروگرام سے متعلق آگاہی سیشن

گلگت(بزنس ڈیسک)پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی)نے گلگت چیمبر اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کے اشتراک سے پی ایچ ڈی ای سی سرٹیفکیشن سپورٹ انیشی ایٹو کے حوالے سے ایک آگاہی سیشن کا انعقاد کیا۔۔۔

سیشن کا مقصد گلگت بلتستان کے باغبانی شعبے میں معیار کی پابندی، سرٹیفکیشن سے متعلق آگاہی اور برآمدی استعداد کو فروغ دینا تھا۔ یہ اقدام خطے کی باغبانی ویلیو چین کو قومی اور بین الاقوامی معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے گا۔قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ زراعت و فوڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سرتاج علی نے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے گلوبل جی اے پی، ایچ اے سی سی پی اور آئی ایس او 22000 معیارات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرٹیفکیشنز نہ صرف ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل کو یقینی بناتے ہیں بلکہ خریداروں کے اعتماد میں اضافہ اور برانڈ کی ساکھ کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ عالمی غذائی تجارت میں مؤثر شرکت، خصوصاً اعلیٰ قدر اور سخت ضابطوں والی منڈیوں تک رسائی کے لیے سرٹیفکیشن ناگزیر ہے ، جہاں معیار کی یقین دہانی اور مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی بنیادی تقاضے ہیں۔پی ایچ ڈی ای سی کے منیجر پراجیکٹس حمزہ ناصر اور خواجہ ندیم نے شرکاء کو پی ایچ ڈی ای سی سرٹیفکیشن پراجیکٹ کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے ذوالفقار علی غازی نے گلگت بلتستان کے لیے سرٹیفکیشن پروگرام کے آغاز پر پی ایچ ڈی ای سی کو سراہا۔ پی ایچ ڈی ای سی کے ہارٹیکلچر کنسلٹنٹ ڈاکٹر عظیم نے سرٹیفکیشن، برآمدات کے فروغ اور معیار میں بہتری کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی۔سیشن کے اختتام پر اطہر حسین نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ کم قدر والی منڈیوں تک محدود ہے جبکہ اعلیٰ قدر کی منڈیاں زیادہ منافع اور بہتر قیمتوں کی فراہمی کا ذریعہ بنتی ہیں

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں