بلوچستان:کوئٹہ سے پشاور جانیوالی بس کھائی میں جاگری،40افراد جاں بحق،8زخمی:ـمسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی :زخمی کا بیان
حادثہ ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے دانہ سر میں ہوا،بس کا ڈھانچہ مکمل تباہ ، امدادی ٹیموں کو دشواری کا سامنا ، تمام لاشیں نکالنے کیلئے کئی گھنٹے تک آپریشن جاری رہا حادثے کی ہر پہلو سے تحقیقات کا حکم، اوورلوڈنگ، تیز رفتاری اور ایرانی ڈیزل کی موجودگی بھی زیر تفتیش،صدر ،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان کا افسو س کا اظہار
کوئٹہ،اسلام آباد (کرائم رپورٹر، سٹی رپورٹر، سٹاف رپورٹر، نمائندہ خصوصی، نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے دانہ سر میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے ، جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حکام نے حادثے کی تمام ممکنہ وجوہات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ ایک زخمی مسافر نے دعویٰ کیا ہے کہ مسافروں سے تلخ کلامی کے بعد ڈرائیور نے جان بوجھ کر بس کھائی میں گرائی ۔ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت علی کاکڑ کے مطابق حادثہ جمعہ کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور پیش آیا۔ بس تقریباً 70 سے 80 فٹ گہری کھائی میں جا گری، جس سے اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ متعدد مسافر ملبے میں پھنس گئے جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیموں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ریسکیو 1122 شیرانی کے انچارج ثنا اللہ کے مطابق زخمیوں کو پہلے نکال کر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں ژوب ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جائے حادثہ سے تمام لاشیں نکالنے کیلئے کئی گھنٹے تک آپریشن جاری رہا۔ حادثہ دشوار گزار اور غیر آباد پہاڑی علاقے میں پیش آنے کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ژوب کے سول ہسپتال اور ٹراما سنٹر میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ژوب، شیرانی اور خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ریسکیو ٹیمیں اور متعدد ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔بس کمپنی کے مطابق کوئٹہ سے روانگی کے وقت بس میں 36 مسافر سوار تھے تاہم راستے میں خراب ہونے والی دوسری بس کے مسافروں کو بھی اسی کوچ میں منتقل کر دیا گیا، جس سے گاڑی اوورلوڈ ہو گئی اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
پولیس کے مطابق حادثے میں ڈرائیور بھی جان کی بازی ہار گیا جس کی شناخت لورالائی کے رہائشی مراد عرف بابو استاد کے نام سے ہوئی ہے ۔زخمی مسافر حسین احمد نے میڈیا کو بتایا کہ سفر کے دوران ڈرائیور اور بعض مسافروں کے درمیان تلخ کلامی جاری تھی۔ ان کے مطابق ڈرائیور نے غصے میں آ کر اسٹیئرنگ موڑا، جس کے نتیجے میں بس کھائی میں جا گری۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بحث و تکرار کے دوران ڈرائیور کی توجہ سڑک سے ہٹنے کے باعث حادثہ پیش آیا ہو۔تحقیقات میں ایک اور اہم پہلو بس میں مبینہ طور پر اضافی ایرانی ڈیزل کی موجودگی بھی ہے ۔ ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل سکیورٹی چوکی پر بس کو روک کر اضافی ڈیزل اتارا گیا تھا، جس کے باعث تاخیر ہوئی اور ممکنہ طور پر بعد میں ڈرائیور نے رفتار تیز کر دی۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ نے ڈرائیور کے مبینہ کردار، اوورلوڈنگ اور ایرانی ڈیزل سے متعلق الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے فوری انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔صدرمملکت آصف زرداری ،وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت کی ہے جبکہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔