غیر ملکی خواتین کیس میں نیا موڑ،پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ،ایس ایچ او معطل
ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد پر میڈیکل کی اجازت کیلئے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فلیٹ میں زبردستی گھسنے ،دھمکانے کا الزام خواتین معائنہ کے بعد اپنے ملک روانہ ،میڈیکل رپورٹ پولیس کو مل گئی،خفیہ رکھی گئی، گرفتار ملزموں کا 5روزہ ریمانڈ
لاہور(کرائم رپورٹر،کورٹ رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)غیرملکی خواتین کو پاکستان بلا کر مبینہ اغوا اور زیادتی کے کیس میں تھانہ مصطفی آباد میں پولیس افسروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کر لی گئی۔پولیس ذرائع کے مطابق غیر ملکی خواتین سے زیادتی کا مقدمہ درج کرنے کے بعد ایس ایچ او میڈیکل کی اجازت لینے کیلئے رات گئے جج کے گھر پہنچ گئے ،جوڈیشل مجسٹریٹ نے آئی جی پنجاب کو مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست دی ،اعلیٰ پولیس افسروں کی ہدایت کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ اوڈیفنس سی فریاد اور دو نامعلوم پولیس اہلکار رات ڈیڑھ بجے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سرکاری فلیٹ میں مبینہ طور پر غیرقانونی داخل ہوئے ۔ملزموں نے فلیٹ نمبر 802 کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا اور پھر زبردستی گھر میں داخل ہوگئے ، معزز جوڈیشل مجسٹریٹ اور اہلِ خانہ نیند سے جاگے تو مسلح پولیس اہلکار ڈرائنگ روم میں موجود تھے ۔ مقدمے کے مطابق ایس ایچ او فریاد نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے نام پوچھا اور انہیں موبائل پر اعلیٰ افسر سے بات کرنے کو کہا ۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے فون پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو گھر سے نکل جانے کا کہا۔ ایف آئی آر کے مطابق انکار کے باوجود ایس ایچ او اور اہلکار مبینہ طور پر سرکاری رہائش گاہ میں موجود رہے اور دھمکیاں دیتے رہے ۔ ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد اور دو نامعلوم پولیس اہلکاروں پر گھر میں زبردستی داخل ہونے اور سنگین دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ، بعدازں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس ایچ او ڈیفنس سی فریاد کو معطل کر دیا ۔ غیرملکی خواتین کی میڈیکل رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی جبکہ خواتین میڈیکل معائنے کے بعد اپنے ملک واپس روانہ ہو گئیں،پولیس حکام نے میڈیکل رپورٹ میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی اور کہا گیا کہ یہ میڈیکل رپورٹ تفتیش کے مفاد میں خفیہ رکھی گئی ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا ہے ۔دریں اثنا پولیس نے گرفتار ملزموں رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی کو لاہور کی کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزموں کو 5روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیااور پولیس کو آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔