تہران:وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت ،ایرانی قیادت سے ملاقات
علی خامنہ ای نے دہائیوں تک غیر معمولی بصیرت و حکمت کیساتھ ایرانی قوم کی رہنمائی کی:شہبازشریف ،عاصم منیر کا خراج عقیدت شہید کی 7روزہ آخری رسومات کا تہران سے آغاز، جسد خاکی قم،نجف پھر کربلا جائیگا،مشہد میں تدفین ہوگی ، عالمی رہنماؤں کی شرکت
تہران(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اﷲ علی خامنہ ای کی سات روزہ آخری رسومات کا آغاز ان کی رحلت کے 125 دن بعد ہو گیا ،علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت جمعہ کے روز تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں رکھ دئیے گئے جہاں جسدِ خاکی کا دیدار کرایا جا رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی دعوت پر شہید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اﷲ تارڑ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی ، شہباز شریف نے اسلام کیلئے شہید سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک غیرمعمولی بصیرت، حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔ وزیراعظم نے سپریم لیڈر آیت اﷲ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ایران کے برادر عوام کے ساتھ اس قومی سانحہ پر مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور شہید رہنما کے درجات کی بلندی اور مغفرت کیلئے دعا کی۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ جنازے میں شرکت کی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی اور شہید علی خامنہ ای کی ایران کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔فیلڈ مارشل علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے بعد وطن واپس روانہ ہوگئے ،ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی اوراعلیٰ سول ملٹری حکام نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو الوداع کیا۔خیال رہے 86 سالہ آیت اﷲ علی خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن اپنے رہائشی کمپاؤنڈ پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں اپنے کئی اہلِ خانہ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے ،ان کی تدفین ابتدا میں مارچ میں ہونا تھی، لیکن امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ طویل ہونے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کی شب خامنہ ای کے تابوت کو پہلی مرتبہ عوام کے سامنے لایا گیا، جہاں غم سے نڈھال حامی نوحہ خوانی، ماتم کرتے اور آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ انہیں الوداع کہتے نظر آئے ۔ لوگ تابوت پر پھول نچھاور کرتے رہے جبکہ سوگ کی فضا نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جمعہ کو ان کا تابوت اور ان کے ساتھ شہید ہونیوالے خاندان کے دیگر افراد کے تابوت عظیم نمازگاہ امام خمینی مصلیٰ میں رکھے گئے ، جو ان کے پیش رو آیت اللہ روح اللہ خمینی کے اعزاز میں تعمیر کی گئی تھی۔
جمعہ کو جب تابوت ہجوم کے ہاتھوں پر اٹھا کر لائے گئے تو انہیں ایک سفید، بلند چبوترے پر رکھا گیا، جس کے عقب میں خوبصورت نقش و نگار سے مزین محراب اور قومی و سوگ کے سیاہ پرچم نصب تھے ۔تابوت پر ایک سیاہ عمامہ رکھا گیا تھا، جو اُن علما کی علامت سمجھا جاتا ہے جو خود کو حضرت محمد ؐ کی نسل سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ رکھا گیا چیک دار رومال ایران میں انقلابی نظریات اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔تقریب میں سابق روسی صدر دمیتری میدویدوف، چینی نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب سربراہ ہی وی، عراقی صدر نیزار عامدی ،سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید بن عبدالکریم الخریجی،حماس کے اسماعیل درویش، موسیٰ محمد ابو مرزوق ودیگر عالمی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔تجہیز و تدفین کی یہ تقریبات9جولائی تک جاری رہیں گی۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ غیر ملکی عوامی وفود کیلئے تقریبات کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 8بجے ہو گا جبکہ دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام دوپہر 2بجے انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے ۔سپاہ محمد رسول اللہ تہرانِ بزرگ کے کمانڈر حسن حسن زادہ، جو تقریب کے اصل ذمہ دار ہیں، نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کا تابوت ایک بلند جگہ پر رکھا جائے گا تاکہ مختلف مقامات سے دیکھا جا سکے ۔
ان کے مطابق آمد و رفت کا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہر شخص تقریباً 15 سے 20 منٹ میں اندر آ کر وداع کر سکے اور باہر نکل جائے ۔تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز گرینڈ مصلیٰ میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب ہوگی،آج4 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے دروازے کھولے جائیں گے اور 5 جولائی کو رات 8 بجے بند کر دئیے جائیں گے ۔ مرکزی نمازِ جنازہ 5 جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔6 جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا جو مقامی وقت کے مطابق صبح 6بجے شروع ہوگا،7 جولائی کو قم میں جنازے کا جلوس نکلے گا، یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے ۔ جسد خاکی7جولائی کی شام نجف پہنچے گا۔ ایران واپسی سے قبل8جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے اور کربلا میں سہ پہر4بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے ۔ خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔