صنعتی شعبوں میں بہتری، معاشی چیلنجز بھی برقرار

صنعتی شعبوں میں بہتری، معاشی چیلنجز بھی برقرار

ستمبر میں ٹریکٹرز کی فروخت 129.7، کھاد کی طلب 42.5 فیصد بڑھ گئی حکومتی قرضے 85ہزار ارب روپے سے تجاوز، 100انڈیکس 4فیصد گرگیا

کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی)ملکی معیشت میں ستمبر 2026کے دوران صنعتی اور بعض اہم معاشی شعبوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تاہم بڑھتی مہنگائی، حکومتی قرضوں میں اضافے ، کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ، برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے معاشی صورتحال کے حوالے سے متعدد چیلنجز بھی برقرار رکھے ہیں۔ اسٹیٹ بینک،اسٹاک ایکسچینج اور ادارہ شماریات سمیت مختلف اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے دوران سیمنٹ، کھاد اور آٹو سیکٹر کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ دوسری جانب بعض بیرونی اور مالیاتی اشاریوں میں کمزوری دیکھنے میں آئی۔ اداروں کی مجموعی رپورٹ کے مطابق ملکی آٹو سیکٹر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا، ستمبر میں ٹریکٹرز کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 129.7 فیصد جبکہ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،

اسی طرح ٹرکوں کی فروخت بھی 17.8 فیصد بڑھی۔ آٹو فنانسنگ کا حجم بھی سالانہ بنیادوں پر 33.6 فیصد اضافے سے 407 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔ دوسری جانب صنعتی سرگرمیوں میں سیمنٹ اور کھاد کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جبکہ ستمبر میں سیمنٹ کی فروخت 6 فیصد بڑھ کر 46 لاکھ ٹن رہی جبکہ کھاد کی سالانہ فروخت 42.5 فیصد اضافے سے 6 لاکھ 11 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔دوسری جانب آئی ٹی برآمدات 18.2 فیصد اضافے سے 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نجی شعبے کی تجارتی سرگرمیوں کیلئے بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی بھی بڑھی۔ پرائیویٹ سیکٹر کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے قرضے سالانہ بنیادوں پر 16 فیصد اضافے سے 11.5 کھرب روپے تک پہنچ گئے ۔ درآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت سے منفی زون میں داخل ہوگیا جبکہ برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے بیرونی کھاتے کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے ،

اسکے علاوہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی طلب کمزوری دیکھی گئی۔ستمبر میں ڈیزل کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 11.3 فیصد جبکہ پٹرول کی فروخت 4.5 فیصد کم رہی۔رپورٹ کے مطابق حکومتی قرضے ایک سال کے دوران بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگئے ۔ اسٹاک ایکسچینج بھی ستمبر میں عالمی اور ملکی دباؤ سے متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...