میو نسپل کارپوریشن میں بے ضابطگیاں، سامان غبن
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے) میونسپل کارپوریشن میں بے ضابطگیوں اور اختیارات سے تجاوز کا سلسلہ نہ رک سکا۔ قائم مقام چیف آفیسر و میونسپل آفیسر ریگولیشن کی مبینہ پشت پناہی سے انکروچمنٹ انسپکٹرز عام شہریوں اور تاجروں کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔
انکروچمنٹ انسپکٹرز کی جانب سے ضبط شدہ سامان سٹور میں جمع کروانے کی بجائے غبن کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔میونسپل کارپوریشن میں احتسابی عمل نہ ہونے سے انکروچمنٹ انسپکٹرز نے اختیارات سے تجاوز اور مبینہ کرپشن کی تمام حدیں پار کر رکھی ہیں۔ انکروچمنٹ انسپکٹرز کی جانب سے تجاوزات کیخلاف آپریشن کے نام پر خلاف ضابطہ موٹر سائیکلیں بھی ضبط کی جا رہی ہیں اور ضبط کرکے سٹور میں جمع کروانے کی بجائے بغیر رسید کے جرمانے کے پیسے لے کر موٹر سائیکل واپس کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔جبکہ قواعد و ضوابط کے مطابق انکروچمنٹ انسپکٹرز گاڑی یا موٹر سائیکل ضبط ہی نہیں کر سکتے ، بلکہ نو پارکنگ میں کھڑی گاڑی یا موٹر سائیکل کو بند کرنے کا اختیار سٹی ٹریفک پولیس کے پاس ہوتا ہے ۔ ٹریفک پولیس چالان کرنے کے بعد موٹر سائیکل یا گاڑی کو متعلقہ ٹریفک سیکٹر میں بند کرسکتی ہے ، جو چالان کی رقم جمع کروانے کے بعد مالک کو واپس ملتی ہے ۔اگر انکروچمنٹ انسپکٹرز کوئی چیز ضبط کرتے ہیں تو وہ سٹور میں جمع کروائے بغیر واپس کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ لیکن کچہری بازار میں بطور انکروچمنٹ انسپکٹر تعینات میونسپل کارپوریشن کے جونیئر کلرک کی جانب سے مبینہ دیہاڑی کے لیے موٹر سائیکل بھی ضبط کیے جا رہے ہیں، جن کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔مذکورہ انکروچمنٹ انسپکٹر کو سابق میونسپل آفیسر ریگولیشن کی جانب سے شہر سے دور سیکٹر بدر کرکے وارث پورہ ٹرانسفر کر دیا گیا تھا، لیکن اب مذکورہ جونیئر کلرک نے مبینہ ساز باز کے ساتھ دوبارہ سے کچہری بازار میں بطور انکروچمنٹ انسپکٹر تعیناتی کروا لی ہے ۔ذرائع کے مطابق انکروچمنٹ انسپکٹرز کو قائم مقام چیف آفیسر و میونسپل آفیسر ریگولیشن ملک ظفر کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ۔ معاملے سے متعلق موقف لینے کیلئے ملک ظفر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے معاملے کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے موقف دینے سے گریز کیا۔