پابندی کے باوجود پولی تھین بیگز کا استعمال جاری
کئی بار دی جانے والی ڈیڈ لائنز گزر جانے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہو سکی،شاپر بیگز مین استعمال ہو نے والے کیمیکلز انسانی صحت کیلئے مضر،محکمہ ماحولیات کی خاموشی
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)پابندی کے باوجود فیصل آباد میں اشیا ضروریہ کی خرید و فروخت کیلئے ممنوعہ پولی تھین بیگز کا بے دریغ استعمال جاری ہے ۔ دودھ، دہی، گوشت، سبزیوں اور پھلوں کے لیے بھی مضر صحت پولی تھین بیگز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کئی بار دی جانے والی ڈیڈ لائنز گزر جانے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہو سکی۔محکمہ ماحولیات کے قواعد و ضوابط کے مطابق پولی تھین بیگز کے استعمال پر پابندی ہے ۔ خود وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر دو بار ڈیڈ لائن دی، لیکن اس کے باوجود شہر اور گرد و نواح میں پولی تھین بیگز کا سرعام استعمال اور کاروبار جاری ہے ۔
ماہرین کے مطابق پولی تھین بیگز پلاسٹک دانے میں مختلف زہریلے اور خطرناک کیمیکلز شامل کر کے بنائے جاتے ہیں۔ بیگ کو چپکنے سے بچانے کے لیے رولز کے درمیان ایک کیمیکل پاوڈر بھی ڈالا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے سست زہر ثابت ہوتا ہے ۔ جب کھانے پینے کی گرم اشیا بیگ میں ڈالی جاتی ہیں تو کیمیکلز ری ایکشن کے ذریعے بیگ کے زہریلے اثرات کھانے میں منتقل ہو جاتے ہیں، جو صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔فیصل آباد کے شاپنگ سنٹرز، دودھ دہی کی دکانیں، فروٹ سبزی کی دکانیں، گوشت کی دکانیں، کریانے کی دکانیں، مختلف فوڈ پوائنٹس اور ہوٹلز میں سرعام پولی تھین بیگز استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ بیگز سالڈ ویسٹ میں سب سے نمایاں نظر آتے ہیں اور سیوریج سسٹم کی بندش کی بھی بڑی وجہ بنتے ہیں، تاہم محکمہ ماحولیات کی جانب سے کوئی موثر توجہ نہیں دی جا رہی۔