وائلڈ لائف کی نااہلی، شیر کا حملہ، ویٹرنری افسر زخمی

وائلڈ لائف کی نااہلی، شیر کا حملہ، ویٹرنری افسر زخمی

ڈھڈی والا میں دربار امام جلوی پر رکھے پالتو شیروں کو تحویل میں لینے عملہ بغیر مکمل حفاظتی اقدامات کے پہنچا،دوا کی کم خوراک کے باعث شیر بے ہو ش نہ ہوئے ویٹرنری افسر احسن ایک ملازم کیساتھ پنجرے میں داخل ہوئے شیر نے حملہ کر دیا، مالکان نے بچایا ، محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا رابطے کے باوجود موقف دینے سے گریز

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے عملے کی مبینہ نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ کارروائی کے باعث ایک ویٹرنری افسر شدید زخمی ہو گیا، جبکہ دیگر ملازمین اور مالکان کی جان بھی خطرے میں پڑ گئی۔جڑانوالہ روڈ کے علاقے ڈھڈی والا میں دربار امام جلوی پر رکھے گئے پالتو شیروں کو تحویل میں لینے کے لیے وائلڈ لائف عملہ بغیر مکمل حفاظتی اقدامات کے پہنچا۔ ذرائع کے مطابق پالتو شیر گزشتہ تین سال سے اسی مقام پر موجود تھے ۔ مالکان کو یہ نر اور مادہ شیر بطور تحفہ اس وقت ملے تھے جب ان کی عمر دو ماہ سے بھی کم تھی، جبکہ شیروں کا مکمل ڈیٹا وائلڈ لائف کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہونے کے باعث یہ ڈکلیئرڈ تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے ایک ہفتہ قبل مالکان کو آبادی سے باہر منتقلی کے لیے سادہ کاغذ پر نوٹس دیا، بعد ازاں 22 جنوری کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف نمرا رشید کے دستخط سے باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا، جس میں تین روز کے اندر شیروں کو آبادی سے باہر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی اور 25 جنوری کو حتمی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی۔تاہم وائلڈ لائف عملہ نوٹس کی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی 24 جنوری کی رات تقریباً 8 بجے شیروں کو تحویل میں لینے کے لیے پہنچ گیا۔ رینجرز نے مالکان سے پنجرے کی چابی حاصل کی، جس کے بعد ویٹرنری آفیسر احسن نے اینمل کیپر کے ہمراہ شیروں کو ٹرینکولائزر ڈارٹ کیا، تاہم مبینہ طور پر دوا کی کم خوراک کے باعث شیر بے ہوش نہ ہو سکے۔

مالکان کے مطابق انہوں نے بارہا عملے کو آگاہ کیا کہ شیر مکمل طور پر بے ہوش نہیں ہوئے، مگر عملے نے انہیں خاموش رہنے کی تنبیہ کی۔ اس کے باوجود ویٹرنری افسر احسن ایک ملازم کے ساتھ پنجرے میں داخل ہو گئے ، جہاں نر شیر نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں احسن شدید زخمی ہو گئے اور ان کی آنکھ کو بھی سنگین نقصان پہنچا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مالکان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ویٹرنری افسر کو شیر کے چنگل سے نکالا۔ واقعے میں وائلڈ لائف عملے کی عجلت، نوٹس کی مدت مکمل ہونے سے قبل کارروائی، اور شیروں کو مکمل طور پر بے ہوش کیے بغیر پکڑنے کی کوشش کو شدید غفلت قرار دیا جا رہا ہے ۔واقعے سے متعلق مؤقف کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر عظیم ظفر سے بارہا رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے مؤقف دینے سے گریز کیا، جبکہ ڈائریکٹر سنٹرل ریجن مدثر حسن نے بھی اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں