بندروں کا غیر قانونی تماشا محکمہ وائلڈ لائف خاموش

بندروں کا غیر قانونی تماشا محکمہ وائلڈ لائف خاموش

پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 کے تحت بندر ایک پروٹیکٹڈ سپیشی کے طور پر محفوظ ہے ، لیکن شہر میں اکثر مداری تماشا کر کے بھیک مانگنے میں مصروف ہیں مداری بندروں کو رسی میں باندھ کر ہاتھ میں ڈنڈے کے ساتھ گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر گھوماتے ہیں ، بندروں کی نسل کشی کو روکا جائے : ماہرین

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر)محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی عدم توجہ کے باعث فیصل آباد میں وائلڈ لائف ایکٹ کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ پنجاب وائلڈ لائف (پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ) ایکٹ 1974 کے تحت بندر ایک پروٹیکٹڈ سپیشی کے طور پر محفوظ ہے ، یعنی اسے پکڑنا، رکھنا، بیچنا یا تما شا کروانا غیر قانونی ہے ، لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں مداری سرعام بندر کا تماشا کروا کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، اور محکمہ تحفظ جنگلی حیات کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ فیصل آباد میں محکمہ وائلڈ لائف دکھاوے کی کاروائیوں میں مصروف ہے اور وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی پر کوئی عملی اقدام نہیں کیا جاتا۔ کوہ نور سمیت کئی علاقوں میں مداری بندروں کو رسی میں باندھ کر ہاتھ میں ڈنڈے کے ساتھ گلیوں، بازاروں اور چوراہوں پر گھوماتے ہیں تاکہ عوامی تماشہ کرایا جا سکے ۔وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق بندر نہایت سمجھدار اور حساس جانور ہیں، جو چیزوں کو یاد رکھتے ہیں، لوگوں کے چہروں کو پہچانتے ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو مہینوں یا سالوں تک یاد رکھتے ہیں۔

قدرتی ماحول میں بندر گروہ کی شکل میں رہتے ہیں، جہاں ہر بندر کا الگ رتبہ اور سماجی تعلق ہوتا ہے ۔ماہرین نے کہا کہ جب چھوٹے بندروں کو جنگل سے پکڑ کر شہروں میں لایا جاتا ہے ، انہیں زنجیروں میں باندھ کر بھوکا رکھا جاتا ہے ، مارا پیٹا جاتا ہے اور تماشا کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے ، تو وہ شدید ذہنی دباو اور جسمانی تکلیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ان کی فلاح و بہبود متاثر ہوتی ہے بلکہ قدرتی ماحول میں ان کی نسل کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوتا ہے ۔ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی جی وائلڈ لائف غفلت برتنے والے افسر اور ملازمین کیخلاف محکمانہ کارروائی کریں اور سخت اقدامات اٹھائیں تاکہ بندروں پر ہونے والے ظلم اور نسل کشی کو روکا جا سکے ۔معاملے سے متعلق موقف لینے کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تحفظ جنگلی حیات عظیم ظفر سے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے کوئی بیان دینے سے گریز کیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں