این ایف سی انسٹیٹیوٹ ملازمین کی تنخواہوں ترقی و واجبات کی ادائیگی کیلئے 10 فروری ڈیڈلائن

این ایف سی انسٹیٹیوٹ ملازمین کی تنخواہوں ترقی و واجبات کی ادائیگی کیلئے 10 فروری ڈیڈلائن

ایمپلائی یونین سی بی اے کی طرف سے ڈائریکٹر این ایف سی کو تحریری درخواست پیش ، رمضان سے پہلے ادائیگیاں کی جائیں ، مطالبات پورے نہ کیے تو قانونی کے ساتھ احتجاجی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ فرٹیلائزر ریسرچ میں ملازمین کی اضافہ شدہ تنخواہوں، ترقی اور دیگر واجبات کی ادائیگی کا وعدہ بر سوں سے پورا نہیں کیا جا سکا۔ ملازمین کے جائز مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج، دھرنا اور دیگر قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیتے ہوئے ایمپلائی یونین (سی بی اے ) نے 10 فروری کو ڈیڈ لائن دے دی ہے ۔اس حوالے سے سی بی اے کی جانب سے ڈائریکٹر این ایف سی کو تحریری درخواست بھی پیش کی گئی ہے ۔ درخواست میں جنرل سیکرٹری وقار حمید ڈوگر نے موقف اختیار کیا ہے کہ کئی سالوں سے گورنمنٹ کی جانب سے اعلان شدہ تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مراعات نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین شدید مالی مشکلات اور کسمپرسی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2025 کو تنخواہوں میں سال 2022 سے سکیل ریویژن، سال 2023 سے 35 فیصد، سال 2024 سے 35 فیصد اور سال 2025 سے 10 فیصد اضافے ، ڈسپرٹی الاؤنس، پروموشنز، ہاؤس رینٹ الاؤنس اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے لیے تحریری درخواست دی گئی تھی، جس پر ڈائریکٹر نے عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی ، تاہم بعد ازاں عمل نہیں ہوا۔سی بی اے نے مطالبہ کیا ہے رمضان سے پہلے ملازمین کو ان کے مالی حقوق ادا کیے جائیں۔ اگر مطالبات پورے نہ کیے تو ایمپلائی یونین احتجاجی اور قانونی راستے اپنانے پر مجبور ہوگی، تمام تر اخلاقی، انتظامی اور قانونی ذمہ داری ادارے پر ہوگی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں