پابندی کے باوجود پکی قبریں، بعض کیساتھ احاطے اور کمرے تیار، تدفین مشکل
چمن شاہ ،قبرستان کلاں کے محافظوں کی ملی بھگت سے قبر پکی کرنے کے دوران کا رروائی نہیں کر تا ،ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنوں کی طرف سے نئے قبرستانوں کیلئے جگہ نہیں دی جارہی:شہری
گوجرانوالہ(نیوزرپورٹر)پابندی کے باوجود گوجرانوالہ کے قبرستانوں میں پکی قبریں بنانے کا سلسلہ نہ رک سکاجس سے جگہ کم پڑنے لگی، اندرون شہر کے قبرستانوں میں تدفین مشکل ہو گئی ۔ قبرستانوں میں پکی قبریں بنانے پر پابندی عائد ہے اور یہ واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے ۔ قانون پرعمل درآمد کیلئے ہر قبرستان کا محافظ قبرستان مقرر کیا گیا ہے جو سرکاری ملازم ہے لیکن ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔
قبر جب پکی ہوتی ہے تو ایک قبر تین تین قبروں کی جگہ گھیرتی ہے ،بعض نے تو قبروں کے اطراف میں بڑے بڑے جنگلے لگا رکھے ہیں اور ان کیساتھ دروازہ بھی لگایا ہوا ہے جبکہ بعض نے تو قبروں کے ساتھ کمرے بنا رکھے ہیں ۔چمن شاہ قبرستان ،قبرستان کلاں شہر کے بڑے قبرستان ہیں جہاں تدفین کیلئے جگہ ملنا مشکل ہو گیا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گورکن کو نذرانہ دیا جائے تو بلدیہ کا کوئی اہلکار قبر پکی کر انے کے دوران کارروائی نہیں کرتا۔دوسری طرف ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنوں و ضلع کونسلوں کی طرف سے نئے قبرستانوں کیلئے جگہ مختص نہیں کی جارہی۔