الائیڈ ہسپتال : نیفرالوجی وارڈ میں مستحق مریض نظرانداز

 الائیڈ ہسپتال : نیفرالوجی وارڈ میں مستحق مریض نظرانداز

ڈیوٹی ڈاکٹرز کی جانب سے پر اپنے نجی کلینکس کے مریضوں کو خصوصی پروٹوکول دینے کا انکشاف ،ہسپتال انتظامیہ کے وزٹ پر فائلیں غائب کر دی جاتی ہیں، انکوائری ہو گی

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)الائیڈ ہسپتال ٹو کے نیفرالوجی وارڈ میں ڈیوٹی ڈاکٹرز کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے نجی کلینکس کے مریضوں کو داخل کرنے اور انہیں خصوصی پروٹوکول دینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کے وزٹ یا راؤنڈ کے دوران نجی مریضوں کی فائلیں وارڈ سے غائب کر دی جاتی ہیں، جبکہ کڈنی سینٹر کے مستحق مریضوں کو یا تو وقت سے پہلے ڈسچارج کر دیا جاتا ہے یا ایمرجنسی وارڈ منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کڈنی سنٹر میں موجود 8 بیڈز پر مشتمل نیفرالوجی وارڈ میں انچارج سمیت تینوں ڈیوٹی ڈاکٹرز مبینہ طور پر اپنے پرائیویٹ کلینکس کے مریضوں کو داخل کرواتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نجی مریضوں کی فائلوں پر امراضِ گردہ کے مریضوں کو وارڈ میں داخل کیا جاتا ہے ، تاہم ہسپتال انتظامیہ کے افسران کے کسی بھی دورے کی صورت میں وارڈ ڈاکٹرز کے احکامات پر یہ فائلیں کاؤنٹر سے ہٹا دی جاتی ہیں۔

مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بیڈز کم پڑنے کی صورت میں کڈنی سینٹر میں داخل کیے جانے کے اہل ڈائیالیسز مریضوں کو قبل از وقت ڈسچارج کر دیا جاتا ہے یا مبینہ طور پر ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ کڈنی سینٹر میں ڈائیلسز کے دوران اگر کسی مریض کو سانس کی خرابی، بیہوشی یا بلڈ پریشر میں شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا ہو تو اسے 8 بیڈز پر مشتمل نیفرالوجی وارڈ میں داخل کیا جاتا ہے ، جو کڈنی سینٹر کا ہی حصہ ہے ۔ذرائع کے مطابق کڈنی سینٹر میں روزانہ تقریباً 80 مریضوں کے ڈائیلسز کیے جاتے ہیں۔ اس معاملے پر ہسپتال انتظامیہ نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکایات کی انکوائری کی جائے گی اور اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں