الائیڈ ہسپتال ون: کمیشن مافیا کی لاکھوں دیہاڑیاں ، مریض لاچار
ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں مریضوں کیلئے 4500 والا انجکشن چھوڑ کر 7ہزار روپے والا برانڈ لازمی قرار، روزانہ سینکڑوں ٹیسٹ ، انکوائری کے بعد حقائق سامنے آئیں گے : ڈاکٹر عاصم
فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)الائیڈ ہسپتال ون میں ڈریپ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سی ٹی سکین اور ایم آر آئی ٹیسٹ کے کنٹراسٹ کیلئے مریضوں کو مبینہ طور پر مخصوص برانڈ کا انجکشن لکھ کر دینے کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث مریض دیگر فارمولوں کی نسبت مہنگے داموں فروخت ہونے والا انجکشن خریدنے پر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈویژن کی سب سے بڑی سرکاری علاجگاہ کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں عملہ مریضوں کو کنٹراسٹ ٹیسٹ کیلئے الٹرا ویسٹ انجکشن کے فارمولا کی بجائے صرف ایک مخصوص برانڈ تجویز کر رہا ہے ، مبینہ طور پر مریضوں کو سختی سے ہدایات دی جارہی ہیں کہ اگر مقررہ برانڈ کے علاوہ کوئی انجکشن لایا گیا تو ٹیسٹ نہیں ہوگا، جس پر لواحقین مجبوراََ مہنگا انجکشن خرید رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ہسپتالوں، بالخصوص سرکاری علاجگاہوں میں دوا یا انجکشن کا برانڈ نہیں بلکہ فارمولا لکھنے کی پابندی ہے تاہم الائیڈ ہسپتال میں اس کے برعکس عمل جاری ہے اور مبینہ طور پر کمیشن مافیا سرگرم دکھائی دیتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ٹیسٹ کیلئے 2 سے 3 اقسام کے انجکشن قابل قبول تھے جن کی قیمت تقریباً 4500 روپے تک تھی جبکہ گزشتہ ایک ماہ سے مخصوص برانڈ کی قیمت 7 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال میں روزانہ تقریباً 100 ایم آر آئی اور 125 کے قریب سی ٹی سکین سمیت مجموعی طور پر اڑھائی سو کے قریب ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جن میں 50 فیصد کنٹراسٹ ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں۔ ایک ہی برانڈ کی فروخت سے مبینہ طور پر روزانہ لاکھوں روپے کمیشن وصول کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔دوسری جانب ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عاصم شوکت نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ عملہ سے دریافت اور انکوائری کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے ۔