ڈرگ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر کا منصوبہ التوا کا شکار،اربوں کے فنڈز کے باوجود پیشرفت نہ ہوسکی
بحالی مرکز کی ذمہ داری محکمہ صحت کے سپرد کی جائے یا سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کو دی جائے اس پر بھی فیصلہ نہ ہوا،منصوبہ دو مرتبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بھی شامل کیا گیا مگر ایک اینٹ نہ لگ سکی
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)اربوں روپے کے ترقیاتی اور بیوٹیفکیشن فنڈز کے اجرا کے باوجود ڈرگ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر کا منصوبہ تاحال شروع نہ ہو سکا۔ مئی 2021 میں 13 کروڑ روپے لاگت سے بحالیٔ منشیات سنٹر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود عملی کام شروع نہیں ہو سکا۔مذکورہ منصوبہ دو مرتبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں بھی شامل کیا گیا، مگر اس کے باوجود ایک اینٹ تک نہ لگ سکی۔ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ سڑکوں اور نہروں کے کنارے نشے کے عادی افراد منشیات کا استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سڑکوں اور نہروں کے اطراف سے ملنے والی لاشیں بھی اس سنگین مسئلے کی جانب توجہ مبذول نہ کرا سکیں۔ ماہرین کے مطابق منشیات کے عادی افراد مناسب علاج اور بحالی کی سہولت میسر آنے پر معاشرے کا مفید حصہ بن سکتے ہیں، مگر سہولیات کے فقدان کے باعث یہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ 2022 میں ڈرگ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر کیلئے اولڈ ایج ہوم سے ملحقہ جگہ مختص کی گئی اور جولائی میں منصوبے کی منظوری کیلئے سمری پنجاب حکومت کو ارسال کی گئی، تاہم اس پر بھی کوئی عملی پیشرفت نہ ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال یہ فیصلہ بھی نہیں کیا جا سکا کہ بحالی مرکز کی ذمہ داری محکمہ صحت کے سپرد کی جائے یا سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کو دی جائے ۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر منصوبوں کے ساتھ اس اہم سماجی منصوبے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے ۔