شہر میں غیر قانونی موبائل سمز کی فروخت عروج پر
مفت سم اور انٹرنیٹ ڈیٹا کا جھانسہ دے کر بائیو میٹرک سے شہریوں کے نام پر متعدد سمز ایکٹو کرنے کا انکشاف، سمز کو آن لائن فراڈ و دیگر جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے :ذرائع
فیصل آباد (عبدالباسط سے )شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر اور بغیر اجازت موبائل فون سمز فروخت کرنے والے عناصر نے بلا خوف و خطر کھلے عام سٹالز سجا لئے ، ملوث عناصر کی جانب سے سادہ لوح شہریوں کو مفت سمز اور مفت انٹرنیٹ ڈیٹا کی فراہمی کا جھانسہ دے کر سمز فروخت کی جا رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کی مین شاہراہوں، گلی محلوں، بازاروں اور اہم مقامات پر نجی ٹیلی فون کمپنیوں کے نمائندگان کے نام پر مستقل بنیادوں پر سٹالز قائم ہیں جہاں شہریوں کو مختلف سروسز کا لالچ دے کر سمز جاری کی جاتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک تصدیق کے دوران شہریوں کی مبینہ طور پر ایک سے زائد بار بائیو میٹرک کی جاتی ہے اور ان کے علم میں لائے بغیر ان کے نام پر متعدد سمز ایکٹو کر دی جاتی ہیں بعد ازاں انہی سمز کو غیر قانونی دھندوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو مہنگے داموں فروخت کر دیا جاتا ہے ۔
بعدازاں انہی سمز کو آن لائن فراڈ، بینکنگ دھوکہ دہی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے ،ملکیت کی درست تفصیلات موجود نہ ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اصل ملزمان تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ متاثرہ شہری انصاف اور داد رسی سے محروم رہتے ہیں۔ لاعلمی میں اپنے نام پر سمز ایکٹو کروانے والے شہری اکثر ایف آئی اے اور پولیس کی قانونی کارروائیوں میں بھی پھنس جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے اندراج کے باوجود ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کاروائیاں دیکھنے میں نہیں آئیں۔ شہریوں نے ایف آئی اے ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائیاں کی جائیں تاکہ معصوم شہریوں کا استحصال روکا جا سکے ۔