سینئر افسروں میں اختلافات، ایک دوسرے پر الزامات
کرپشن کے مزید کیسز کھلنے اور بعض سینئر افسروں کے خلاف تحقیقات کے آغاز کے امکانات ،سابق ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن عامر رضا پر کروڑوں کی کرپشن کے الزامات
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )فیصل آباد میں بیوروکریسی کے مختلف دھڑوں میں تقسیم اور سینئر افسران کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کرپشن کے مزید کیسز کھلنے اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات کے آغاز کے امکانات ہیں۔سابق ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن عامر رضا کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ ان پر دورانِ تعیناتی ٹھیکیداروں سے بلوں کی مد میں کمیشن لینے ، خلافِ ضابطہ بھرتیاں کرنے اور کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات ہیں۔ نیب کی جانب سے چیف سیکرٹری سے رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے ۔روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر رضا نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے نئے انکشافات کیے ۔ انہوں نے سابق ایڈیشنل کمشنر مصور نیازی اور ایڈیشنل کمشنر کنسولیڈیشن و ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ فیصل آباد آصف اقبال چوہان پر سنگین الزامات عائد کیے ۔عامر رضا کے مطابق مصور نیازی کے تبادلے کے بعد ان کی جگہ تعیناتی کے باعث انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسران بدنیتی پر مبنی الزامات کے ذریعے انہیں بدنام کر رہے ہیں اور نیب میں ریفرنس بھی اسی مقصد کے تحت دائر کیا گیا، جو محض کردار کشی کی کوشش ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی ان افسران کی مبینہ بدعنوانیوں اور غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے ٹھوس شواہد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈویژنل ماڈل کالج (ڈی ایم سی) کی کارکردگی ان کے دور میں بہتر ہوئی، جہاں یکساں نصاب (آکسفورڈ) متعارف کروایا گیا اور اصلاحات نافذ کی گئیں، جس سے ادارہ زیادہ منافع بخش بن گیا۔عامر رضا نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ماضی میں پبلشرز سے مالی فوائد حاصل کیے جاتے رہے ، تاہم ان کے دور میں اس عمل کا خاتمہ کیا گیا۔دوسری جانب ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ آصف اقبال چوہان نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی عامر رضا سے کوئی ذاتی یا پیشہ ورانہ عداوت ہے ۔ جبکہ مصور نیازی کا کہنا تھا کہ انہیں ٹرانسفر ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، اس لیے ان کا اس انکوائری سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کسی افسر سے تنازع ہے ۔