تحصیل صدر میں زہریلا دودھ فروخت کئے جانے کا انکشاف

تحصیل صدر میں زہریلا دودھ فروخت کئے  جانے  کا انکشاف

بااثر حویلی مالکان سڑی ہوئی بدبودار پریس مڈجانوروں کو کھلا کر شہریوں کی صحت سے کھیلنے لگے ، تعفن اور بیماریوں کے پھیلاؤ کابھی خدشہ،اہل علاقہ کا کارروائی کا مطالبہ

 فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)تحصیل صدر میں زہریلا دودھ فروخت کئے جانے کا انکشاف،مویشی مالکان سڑی ہوئی بدبودار پریس مڈجانوروں کو کھلا کر شہریوں کی صحت سے کھیلنے لگے ، مڈ کے ڈھیروں سے اٹھنے والے تعفن اور مچھروں نے علاقہ مکینوں کا جینا دوبھر کر دیا، اسسٹنٹ کمشنر صدر کے حکم کے باوجود بااثر حویلی مالکان کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی ۔تفصیلات کے مطابق تحصیل صدر کے مختلف علاقوں میں بااثر حویلی مالکان کی جانب سے شوگر مل سے حاصل ہونے والی بدبودار پریس مڈکو دودھ دینے والے جانوروں کو بطور چارہ کھلایا جارہا ہے جس کے باعث نہ صرف شہری شدید تعفن اور ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہیں بلکہ مضر صحت دودھ کی فروخت نے انسانی صحت خصوصاً بچوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔ذرائع کے مطابق شوگر ملز سے نکلنے والی یہ مٹی نما مڈانتہائی کم نرخوں پر دستیاب ہے ، جس کی قیمت تقریباً 2 روپے فی کلو یعنی 80 روپے من تک ہوتی ہے ۔

ماہرین کے مطابق شوگر ملز سے نکلنے والی اس پریس مڈ میں کئی ایسے مضر اجزاء پیدا ہو سکتے ہیں جو جانوروں اور انسانوں دونوں کیلئے نقصان دہ ہیں، یہ پھپھوندی اور مائیکوٹاکسنز زہریلے اثرات پیدا کرتے ہیں، مڈ کے ان ڈھیروں سے اٹھنے والے تعفن سے پیدا زہریلی گیسیں اور نامیاتی اثرات بد بھی خطرناک ہوتے ہیں لیکن لالچ میں بیشتر حویلی مالکان اسے باقاعدہ چارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سڑی اور بدبودار مڈ جانوروں کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے اوراس کے اثرات دودھ میں بھی آتے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حویلیوں کے قریب رہنا محال ہو چکا جہاں ہر وقت شدید تعفن فضا میں پھیلا رہتا ہے ، مچھروں اور مکھیوں کی افزائش میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا،جس سے مختلف بیماریوں کے خدشات بڑھ گئے ۔ علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے استعمال کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں