محکمہ ایکسائز پراپرٹی ٹیکس برانچ میں کرپشن جاری

محکمہ ایکسائز پراپرٹی ٹیکس برانچ میں کرپشن جاری

عرصہ دراز سے ایک ہی سیٹ اور سرکل میں تعینات افسر، ملازمین نذرانے لیکر پراپرٹی مالکان کوریلیف دے رہے ، ٹیکس جمع نہ ہونے پر قومی خزانے کانقصان

فیصل آباد(عبدالباسط سے )محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی پراپرٹی ٹیکس برانچ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے سلسلہ نہ تھم سکا۔ پراپرٹی ٹیکس برانچ میں عرصہ دراز سے ایک ہی سیٹ اور سرکل میں تعینات افسر اور ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے ذاتی تعلقات کے حامل افراد اور بھاری نذرانہ ادا کرنیوالے پراپرٹی مالکان کو خلاف ِ ضابطہ خصوصی ریلیف دیتے ہوئے آئے روز اپنی جیبیں گرم کرنے کے انکشافات سامنے آنے لگے ۔ بااثر پراپرٹی مالکان کو ریلیف دیتے ہوئے محکمہ کے افسروں اور ملازمین کی جانب سے اپنی جیبیں تو بھر ی جارہی ہیں لیکن سرکاری خزانے میں ٹیکس کی رقوم جمع نہ ہونے سے سرکاری خزانے کو بھاری مالیت کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ متعدد شکایات سامنے آنے کے باوجود بھی متعلقہ حکام ہائی پروفائل تعلقات کے حامل افسرون اور ملازمین کیخلاف کارروائیاں کرنے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس کی پراپرٹی ٹیکس برانچ میں عرصہ دراز سے ایک ہی سیٹ اور سرکل میں ڈیوٹی انجام دینے والے با اثر اور ہائی پروفائل تعلقات کے حامل انسپکٹرز اور دیگر افسروں و ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

ذرائع کے مطابق جڑانوالہ روڈ، کینال روڈ، ستیانہ روڈ، جھمرہ روڈ، شیخوپورہ روڈ، سرگودھا روڈ، سمندری روڈ، سمن آباد، ڈی ٹائپ کالونی، بٹالہ کالونی، سرفراز کالونی، جھنگ روڈ، اے بی سی روڈ، گلبرگ، افغان آباد، رضا آباد، غلام آباد، منصور آباد، امین ٹاؤن، فیڈمک اور دیگر علاقوں میں قائم ہوٹلز، ہاسٹلز، ریسٹورنٹس، کالجز، سکولز، شاپنگ مالز، پلازوں، مارکیٹس، دکانوں، مارکیز، شادی ہال اور دیگر کاروباری مراکز کے مالکان کی پراپرٹیز کو محکمہ کے افسروں اور ملازمین کی جانب سے ملی بھگت سے بھاری نذرانے لیکر سرکاری ریکارڈ میں پراپرٹیز کی مالیت، رقبہ اور دیگر کیٹگریز کو تبدیل کرتے ہوئے ٹیکس کی رقوم میں ناقابل یقین حد تک کمی کردی جاتی ہے ۔ ٹیکس کی رقوم میں کمی کرنے کے عوض پراپرٹیز کے مالکان سے مبینہ بھاری نذرانے اور تحائف وصول کئے جاتے ہیں۔ ذرائع سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ پراپرٹی ٹیکس برانچ میں تعینات انسپکٹرز، افسر اور ملازمین عرصہ دراز سے ایک ہی سیٹ پر تعینات ہیں اور اپنے ہائی پروفائل تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائیوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔

پراپرٹی ٹیکس برانچ میں تعینات انسپکٹرز اور دیگر افسروں و ملازمین نے اپنے ساتھ پرائیویٹ افراد کو بھی رکھا ہوا ہے جنکی مدد سے پراپرٹیز مالکان کے ساتھ مختلف نوعیت کی ڈیلنگ کی جاتی ہے اور انہیں کے ذریعے بھاری نذرانے اور تحائف بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ بے ضابطگیوں اور بد عنوانیوں کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم کی نیچے سے اوپر تک مساوی تقسیم کی جاتی ہے ۔ جس سے کرپٹ عناصر کارروائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیاہے کہ محکمہ ایکسائز حکام ایسے واقعات کی میرٹ پر انکوائری کرو اکر ملوث عناصر کیخلاف محکمانہ اور قانونی کارروائیاں عمل میں لائیں۔ جس سے نا صرف محکمے کا ریونیو بڑھے گا بلکہ کرپٹ عناصر کا شکار بننے والے پراپرٹیز مالکان بھی سکھ کا سانس لے سکیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں