واٹر ٹینکس کیساتھ ری چارجنگ کنوئوں کا منصوبہ ادھورا
منصوبے کے تحت ہر واٹر ٹینک کے ساتھ ڈرائی ویلز یا ری چارجنگ ویلز تعمیر ہونا تھے، بیشتر مقامات پر ویلز یا تو مکمل نہ ہو سکے یا فنکشنل نہ بنائے جا سکے :ذرائع قذافی سٹیڈیم ، کوپرروڈ ، تاجپورہ ، ریلوے سٹیشن ، کریم پارک پر بننے والے واٹرٹینک کنوؤں کے بغیر، نئے واٹر ٹینکس کے ساتھ ڈرائی ویلز تعمیر کیے جا رہے :واسا
لاہور (شیخ زین العابدین)انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکس منصوبہ تاحال اپنے اصل مقاصد حاصل نہ کر سکا۔ شہر بھر میں تعمیر کیے جانے والے متعدد واٹر ٹینکس میں بارشوں کا پانی جمع تو کیا گیا، مگر اس پانی کو زیر زمین ایکوافائر تک منتقل کرنے کا مؤثر نظام فعال نہ ہونے کے باعث یہ قیمتی ذخیرہ استعمال میں نہ آ سکا۔واسا کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت ہر واٹر ٹینک کے ساتھ ڈرائی ویلز یا ریچارجنگ ویلز تعمیر ہونا تھے تاکہ جمع شدہ پانی زمین میں جذب ہو کر ایکوافائر کو ریچارج کر سکے ، تاہم بیشتر مقامات پر یہ ویلز یا تو مکمل نہ ہو سکے یا تاحال فنکشنل نہ بنائے جا سکے ۔قذافی اسٹیڈیم میں قائم لاہور کے سب سے بڑے واٹر ٹینک کو فعال قرار دیا جا رہا ہے ، مگر اس کے ساتھ تعمیر کیے جانے والے ریچارجنگ کنوئیں ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے ۔
اسی طرح کوپر روڈ پر بننے والے واٹر ٹینک کے ساتھ بھی ایکوافائر ریچارجنگ کا نظام فعال نہ کیا جا سکا۔تاجپورہ بی بلاک میں زیر تعمیر واٹر ٹینک کے ساتھ تاحال کوئی ڈرائی ویل موجود نہیں، جبکہ ریلوے اسٹیشن کے قریب بنائے گئے واٹر ٹینک کے ساتھ ریچارجنگ ویل کا منصوبہ بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ کریم پارک میں جاری منصوبے میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی جہاں پانی ذخیرہ کرنے کا انفراسٹرکچر تو تیار کیا جا رہا ہے مگر زیر زمین پانی بحال کرنے کا بنیادی نظام مکمل نہ ہو سکا۔ذرائع کے مطابق متعدد بارشوں کے دوران واٹر ٹینکس میں جمع ہونے والا پانی بعد ازاں پمپنگ مشینری اور واٹر باؤزرز کے ذریعے نکال کر ڈرینوں میں بہایا جاتا رہا، جس سے نہ صرف قیمتی بارشی پانی ضائع ہوا بلکہ منصوبے کے بنیادی تصور پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ تمام انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکس کے ساتھ ریچارجنگ ویلز کی بروقت تعمیر یقینی بنائی جائے تاکہ شہر میں زیر زمین پانی کے ذخائر کو بہتر بنایا جا سکے ، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔واسا انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئے بننے والے واٹر ٹینکس کے ساتھ ڈرائی ویلز تعمیر کیے جا رہے ہیں اور ایکوافائر ریچارج کرنے کا عمل مرحلہ وار جاری ہے ۔ زیر زمین پانی محفوظ بنانے کے لیے دیگر متبادل ذرائع پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔