امراض قبل کی ادویات 20فیصد تک مہنگی، مریض پریشان
کئی ادویات مارکیٹ سے غائب، مسلسل بڑھتی قیمتیں ناقابل برداشت ،شہری
ملتان (لیڈی رپورٹر) دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے علاج مزید دشوار ہو گیا، امراض قلب کی مختلف ادویات کی قیمتوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ مہنگائی کے باعث پہلے ہی پریشان شہریوں کا کہنا ہے کہ اب جان بچانے والی ادویات بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں جس سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق دل کے مریضوں کیلئے استعمال ہونے والی کئی اہم ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ۔ ایوا ٹیب نامی دوا کی قیمت 799 روپے سے بڑھ کر 1200 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایسکارڈ دوا 86 روپے سے بڑھ کر 96 روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔ اسی طرح لوپری زن دوا کی قیمت 78 روپے سے بڑھ کر 82 روپے ہو گئی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے ساتھ متعدد ادویات مارکیٹ میں نایاب بھی ہو چکی ہیں جس کے باعث مریضوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، انہیں یہ ادویات زندگی بھر استعمال کرنا پڑتی ہیں، اس لیے مسلسل بڑھتی قیمتیں ان کیلئے ناقابل برداشت بنتی جا رہی ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں استحکام لانے اور ان کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کو ریلیف مل سکے ۔