زرعی یونیورسٹی: 15 افریقی ممالک کے ماہرین کا تربیتی پروگرام مکمل
پاکستان میں گنے کی پیداوار 89اعشاریہ 45 ملین ٹن تک پہنچ گئی:وائس چانسلر
فیصل آباد(سٹی رپورٹر)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس میں شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے اشتراک سے 15 افریقی ممالک کے گنے کے ماہرین کیلئے منعقدہ چار ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام اختتام پذیر ہو گیا۔ تقریب سے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اس نوعیت کے باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہیں،پاکستان میں گنا ملک کی دوسری بڑی زرعی بنیادوں پر قائم صنعت، شوگر انڈسٹری کے لیے بنیادی خام مال فراہم کرتا ہے ۔ سال 2025-26ء کے دوران پاکستان میں گنے کی پیداوار 6اعشاریہ 2 فیصد اضافے کے ساتھ 89اعشاریہ 45 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔
جس میں 3اعشاریہ 7 فیصد بہتری کا نمایاں کردار رہا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ڈاکٹر شاہد افغان، شوگر کین ریسرچ انسٹیٹیوٹ ایوب ریسرچ کے چیف سائنسدان ڈاکٹر کاشف منیر اور ایس آر ڈی بی کے کنسلٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے خطاب میں کہا کہ یہ تربیتی پروگرام شرکاء کو گنے کی کاشت اور تحقیق سے متعلق مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے جامع مہارتیں فراہم کرتا ہے ،زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی کاشت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے گنے اور چینی کی پیداوار میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔