غذائی تحفظ کیلئے نئی فصلی اقسام کی تیاری اہم ضرورت قرار
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے جدید زرعی تحقیق ناگزیر:ماہرین،سیمینارسے خطاب
فیصل آباد (سٹی رپورٹر) ماہرین نے کہا ہے کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، زیادہ پیداوار دینے والی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی حامل نئی فصلی اقسام کی تیاری قومی ضرورت بن چکی ہے ، جبکہ پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 کے تحت قائم پلانٹ بریڈرز رائٹس رجسٹری زرعی جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، پلانٹ بریڈرز رائٹس رجسٹری پاکستان اور پاکستان سوسائٹی آف پلانٹ بریڈرز اینڈ جینیٹکس کے اشتراک سے نیشنل سیڈ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار \\\"پلانٹ بریڈرز رائٹس اینڈ پلانٹ ورائٹی پروٹیکشن\\\" سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد نئی پودا جاتی اقسام کے تحفظ سے متعلق قانونی، تکنیکی اور ادارہ جاتی نظام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور پلانٹ بریڈنگ و زرعی تحقیق میں جدت کو فروغ دینا تھا۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ پلانٹ بریڈرز کے حقوق کا تحفظ زرعی تحقیق، جدت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اور تحقیقی ادارے ایسی بہتر فصلی اقسام کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کریں جو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، نئے کیڑوں اور بیماریوں اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
پلانٹ بریڈرز رائٹس رجسٹری کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ رجسٹری نئی پودا جاتی اقسام کے تحفظ، سرٹیفکیشن، قومی رجسٹر کی دیکھ بھال، اقسام کی خصوصیات کی دستاویز سازی، بریڈرز اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور تحقیق پر مبنی جدت کے فروغ کے ذریعے پائیدار غذائی نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عظیم اقبال نے کہا کہ نئی پودا جاتی اقسام کی رجسٹریشن اور ان کا تحفظ محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ جدید زرعی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے ۔ انہوں نے محققین، پلانٹ بریڈرز اور کسانوں میں پلانٹ بریڈرز رائٹس کے نظام سے متعلق آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments