آٹے کی قیمت کم نہ ہوسکی، روٹی نان بھی مہنگے
گندم کی قیمت 5200 روپے فی من سے بھی تجاوز کر گئی ،آٹا 165 روپے کا کلو ہو گیا ، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ،عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے :شہریوں کا مطالبہ
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) محکمہ خوراک، ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے آٹے اور گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عملی طور پر کنٹرول کرنے کے بجائے محض کاغذی کارروائیوں تک محدود رہنے کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قیمت 165 روپے فی کلوگرام اور گندم کی قیمت 5200 روپے فی من سے بھی تجاوز کر گئی ہے ۔ آٹے اور گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ہوٹلوں اور تندور مالکان نے بھی روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ آٹے اور گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، تاہم متعلقہ افسر اور ملازمین کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں دیسی آٹا 165 روپے فی کلو، 15 کلو فائن آٹے کا تھیلا 2400 روپے سے زائد جبکہ گندم 5200 روپے فی من فروخت ہو رہی ہے ۔قیمتوں میں اضافے کے بعد مارکیٹ میں روٹی 25 روپے اور نان 40 روپے تک فروخت ہونے لگا ہے ، جس سے متوسط اور غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود انتظامیہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں پر قابو پانے کے لیے تعینات ٹیموں کی جانب سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے مبینہ طور پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے ، گندم اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کر کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments